உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیرالامیں زمین کسکنے کےدوران دل دہلانے والاواقعہ!ماں اور بیٹےکی لاشیں ایک دوسرے سےگلےملتے ہوئے برآمد

    کیرالا میں ملبے کے نیچے ماں اور بیٹے کی لاشیں ایک دوسرے سےگلے ملتے ہوئے دستیاب ہوئی ہے۔

    کیرالا میں ملبے کے نیچے ماں اور بیٹے کی لاشیں ایک دوسرے سےگلے ملتے ہوئے دستیاب ہوئی ہے۔

    کیچڑ اور ملبے کے ڈھیر سے انھیں نہایت ہی درد ناک اور کرب انگیز منظر دیکھائی دیا۔ جب ٹیم نے بارش کے دوران ملبے کو ہٹایا تو انہیں تین بچوں کی لاشیں ملی۔ تینوں اپنی موت کے باوجود ایک دوسرے کو گلے لگائے ہوئے تھے۔

    • Share this:
      یہ ایک ناقابل برداشت نظارہ ہے، جب کیرالا میں ملبے کے نیچے ماں اور بیٹے کی لاشیں ایک دوسرے سےگلے ملتے ہوئے دستیاب ہوئی ہے۔ ریسکیو ٹیم کے ارکان نے ان لمحات کا ذکر کیا، جب راحت کاری کے کاموں کے دوران انھیں یہ منظر نظر آیا۔ وہ اتوار 17 اکتوبر کو کیرالا کے اڈوکی ضلع کے کوکیئر گاؤں میں مٹی کے تودے میں دبے ہوئے لوگوں کی تلاش میں تھے۔

      کیچڑ اور ملبے کے ڈھیر سے انھیں نہایت ہی درد ناک اور کرب انگیز منظر دیکھائی دیا۔ جب ٹیم نے بارش کے دوران ملبے کو ہٹایا تو انہیں تین بچوں کی لاشیں ملی۔ تینوں اپنی موت کے باوجود ایک دوسرے کو گلے لگائے ہوئے تھے۔ تین بچوں کی شناخت سات سال کی آمنہ ، آٹھ سال کی افسان اور چار سال کے اہیان کے طور پر ہوئی ہے۔


      جب ریسکیو ٹیم نے باقی لاشوں کو ڈھونڈنے کی کوششیں جاری رکھی تو انہیں اسی طرح کی تین مزید لاشیں ملی - ایک ماں اور اس کا بیٹا ایک دوسرے کو گلے لگائے ہوئے تھے، جبکہ ایک بچہ اس کے جھولا میں ملا تھا۔ ماں اور بیٹے کی شناخت 28 سالہ فوزیہ Fauziya اور دس سالہ امین Ameen کے نام سے ہوئی ہے۔

      چند میٹر کے فاصلے پر جب ریسکیو مشن جاری تھا، کانجیراپلی Kanjirapally کا مقامی سید خاموشی سے لینڈ سلائیڈنگ سائٹ کے قریب بیٹھا ہوا تھا ، اس کے چہرے پر بے حسی اور اضطراب دونوں واضح تھے۔ فوزیہ Fauziya سید کی بیوی تھی جبکہ آمنہ اور امین اس کے بچے تھے۔ افسان اور احیان فوزیہ کے پریشان فیصل کے بچے تھے۔

      اطلاعات کے مطابق فوزیہ اور اس کے بچے اپنے رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لیے اڈوکی میں اپنے آبائی گھر آئے تھے۔ منورما کی رپورٹ کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ سے چند لمحے پہلے فوزیہ نے شدید بارش کے دوران ان کے گھر کے احاطے سے بہنے والے کیچڑ کے پانی کی ایک ویڈیو شوٹ کی تھی اور اسے ایک رشتہ دار کو واٹس ایپ پر بھیج دیا تھا۔

      اطلاعات کے مطابق ابتدائی طور پر آٹھ ارکان لاپتہ تھے۔ اتوار کی شام تک 55 سالہ شاجی کی لاش سمیت چھ لاشیں ملی ہیں۔ لاشوں کو کوٹیم کے میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔


      یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہاں ماں اور بچے کی لاشیں ایک دوسرے سے گلے ملے ہوئے دستیاب ہوئی وہ کیرالا میں 2019 اور 2018 کے لینڈ سلائیڈنگ کی یاد دلاتی ہیں۔ کیرالا کے 2018 کے سیلاب میں دو بچوں کی بے جان لاشیں اپنی ماں کی لاش کو گلے لگاتے ہوئے پائی گئیں، جو کہ ملاپیارم کے چتریانپارہ میں لینڈ سلائیڈنگ سے ملبے کے نیچے دب گئے تھے۔ اسی طرح 2019 میں ایک ماں کی لاش ملاپورم میں لینڈ سلائیڈنگ کے ملبے کے نیچے اپنے بچے کا ہاتھ پکڑے ہوئے ملی تھی۔ 2020 میں اناگھا (4) اور اس کی کزن علینہ (8) کو 2019 میں کاولاپارا گاؤں میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ان کی لاشیں نکالنے کے بعد ایک ساتھ دفن کیا گیا تھا۔

      13 اور 17 اکتوبر کے درمیان ریاست میں بارش کے سبب متعلقہ واقعات کی وجہ سے اموات کی تعداد 30 بڑھ گئی۔ کوزی کوڈ ضلع کے وڈاکرا کے قریب ارمالہ کے مقام پر ایک 1.5 سالہ بچہ نہر میں گرنے سے مر گیا۔ شدید بارش کی وجہ سے نہر میں پانی بھر گیا اور یہ علاقے کا ایک دکاندار تھا جس نے بچے کو نہر میں گرتے دیکھا۔ بچہ اس وقت نہر میں گر گیا جب وہ اپنے بڑے بھائی کے پیچھے گیا جو ایک دکان پر گیا تھا۔

       این ڈی آرایف  کے حکام   سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیتے ہوئے۔(تصویر: اے پی )۔

      این ڈی آرایف کے حکام سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیتے ہوئے۔(تصویر: اے پی )۔


      محمد ریحان کے والدین اور اس کے بھائی کو معلوم نہیں تھا کہ بچہ اپنے بھائی کی پیروی کر رہا ہے۔ یہ حادثہ 17 اکتوبر کی صبح 11 بجے کے قریب پیش آیا۔ اگرچہ اسے فوری طور پر وڈاکرا کے سرکاری اسپتال لے جایا گیا ، لیکن اس کی جان نہیں بچائی جا سکی۔

      ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے 21 اکتوبر تک ریاست میں بارشوں اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی ہے۔ کیرالا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی تازہ ترین معلومات کے مطابق بارش کے ساتھ 40 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

      اتوار کی صبح تک ریاست میں کل 2159 افراد کو بحالی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے بارش سے متعلقہ آفات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے خاندانوں کو 4 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: