உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اڑیسہ لے جاکر لڑکی سے 18 دنوں تک کی تھی آبروریزی، عدالت نے سنائی 20 سال جیل کی سزا

    Bokaro News: جھارکھنڈ کے بوکارو کا یہ معاملہ 8 سال پرانا ہے۔ 8 سال پہلے 7 اپریل 2014 کو علی الصبح 4 بجے متاثرہ بیت الخلا کرنے کے لئے گئی تھی۔ اسی دوران ملزم رشید انصاری کے ذریعہ اسے چاقو کا خوف دکھا کر اغوا کرلیا گیا۔ اس کے بعد متاثرہ کو ہوش آیا تو اسے اڑیسہ میں رکھے جانے کی بات ملزم کے ذریعہ بتائی گئی۔ متاثرہ کے والد نے 18 اپریل کو امل آباد تھانے میں اغوا کا معاملہ درج کرایا تھا۔

    Bokaro News: جھارکھنڈ کے بوکارو کا یہ معاملہ 8 سال پرانا ہے۔ 8 سال پہلے 7 اپریل 2014 کو علی الصبح 4 بجے متاثرہ بیت الخلا کرنے کے لئے گئی تھی۔ اسی دوران ملزم رشید انصاری کے ذریعہ اسے چاقو کا خوف دکھا کر اغوا کرلیا گیا۔ اس کے بعد متاثرہ کو ہوش آیا تو اسے اڑیسہ میں رکھے جانے کی بات ملزم کے ذریعہ بتائی گئی۔ متاثرہ کے والد نے 18 اپریل کو امل آباد تھانے میں اغوا کا معاملہ درج کرایا تھا۔

    Bokaro News: جھارکھنڈ کے بوکارو کا یہ معاملہ 8 سال پرانا ہے۔ 8 سال پہلے 7 اپریل 2014 کو علی الصبح 4 بجے متاثرہ بیت الخلا کرنے کے لئے گئی تھی۔ اسی دوران ملزم رشید انصاری کے ذریعہ اسے چاقو کا خوف دکھا کر اغوا کرلیا گیا۔ اس کے بعد متاثرہ کو ہوش آیا تو اسے اڑیسہ میں رکھے جانے کی بات ملزم کے ذریعہ بتائی گئی۔ متاثرہ کے والد نے 18 اپریل کو امل آباد تھانے میں اغوا کا معاملہ درج کرایا تھا۔

    • Share this:
      بوکارو: جھارکھنڈ کے بوکارو کورٹ نے آبروریزی سے متعلق ایک معاملے میں مجرم کو 20 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ ساتھ ہی جرمانہ بھی لگایا گیا ہے۔ معاملہ بیت الخلا کرنے گئی لڑکی کا اغوا کرنے کے بعد نشے کی حالت میں اڑیسہ لے جانے اور وہاں لے جاکر 18 دنوں تک مسلسل آبروریزی کرنے سے جڑا ہے۔

      اس معاملے میں بوکارو کے ایڈیشنل سیشن جج چترتھ یوگیش کمار سنگھ کی عدالت نے ملزم رشید انصاری کو اغوا اور آبروریزی کرنے کے معاملے قصوروار پاتے ہوئے سزا سنائی۔ 20 سال کے سخت قید کی سزا کے ساتھ ہی مجرم پر 20 ہزار روپئے کا جرمانہ بھی لگایا گیا ہے۔ جرمانے کی رقم متاثرہ کو دینے کا بھی عدالت نے حکم دیا ہے۔

      اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر آرکے رائے نے بتایا کہ ملزم کو سزا آن لائن طریقے سے سنائی گئی۔ معاملہ امل آباد  اوپی علاقے کا ہے۔ دراصل آٹھ سال پہلے 7 اپریل 2014 کو علی الصبح 4 بجے متاثرہ بیت الخلا کے لئے باہر گئی تھی۔ اسی دوران ملزم رشید انصاری کے ذریعہ اسے چاقو کا خوف دکھا کر اغوا کرلیا گیا۔ اس کے بعد اسے نشیلی اشیا کھلا کر بے ہوش کر دیا گیا۔ جب متاثرہ کو ہوش آیا تو اسے اڑیسہ میں رکھے جانے کی بات ملزم کے ذریعہ بتائی گئی۔ اس دوران متاثرہ کے والد نے 18 اپریل کو امل آباد تھانے میں اغوا کا معاملہ درج کرایا۔

      حادثہ کے 18 دن بعد اغوا کے ملزم کے پاس سے متاثرہ کو برآمد کیا گیا۔ ملزم کو عدالت سے ضمانت مل گئی اور وہ فرار ہوگیا۔ اس معاملے میں عدالت میں سماعت شروع ہوئی اور 14 ستمبر 2018 کو عدالت نے ملزم رشید انصاری کو بھگوڑا قراردیا۔ اس کے بعد پولیس کے ذریعہ 3 مئی 2022 کو ملزم کو گرفتار کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد کیس کی سماعت ہوئی اور پھر عدالت نے مجرم کو 20 سال سخت قید کی سزا سنائی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: