ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

بامبے ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ- تبلیغی جماعت کے مبلغین کووڈ-19وباء پھیلانے کے ذمہ دار نہیں

بامبے ہائی کورٹ ناگپور بینچ نے آج یہاں ایک اہم ترین فیصلہ میں سخت لہجہ میں فیصلہ سنایا ہے کہ تبلیغی جماعت سے وابستہ مبلغین کووڈ 19پھیلانے کے لئےذمہ دار نہیں ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 24, 2020 10:28 PM IST
  • Share this:
بامبے ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ- تبلیغی جماعت کے مبلغین کووڈ-19وباء پھیلانے کے ذمہ دار نہیں
بامبے ہائی کورٹ نے کہا- تبلیغی جماعت کے مبلغین کووڈ-19وباء پھیلانے کے ذمہ دار نہیں

ناگپور/ ممبئی: بامبے ہائی کورٹ ناگپور بینچ نے آج یہاں ایک اہم ترین فیصلہ میں سخت لہجہ میں فیصلہ سنایا ہے کہ تبلیغی جماعت سے وابستہ مبلغین کووڈ 19پھیلانے کے لئے ذمہ دار نہیں ہیں۔ میانمار کے شہریوں پر الزام کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ بیماری پھیلانے کے لئے کسی بھی مذہب کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ واضح رہے کہ میانمار سے تعلق رکھنے والے ان مبلغین کے ایک گروپ نے گزشتہ مارچ میں دہلی میں تبلیغی جماعت کے مرکز میں منعقد اجتماع میں حصہ لیا تھا۔ بامبے ہائی کورٹ ناگپور بینچ کے جسٹس وی ایم دیشپانڈے اور جسٹس اے بی بورکر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ناگپور پولیس کی فردجرم کو خارج کر دیا اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

ججوں نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ استغاثہ کی طرف سے یہ ثابت کرنے کے لئے کوئی مواد موجود نہیں ہے کہ درخواست گزار تبلیغ میں مصروف تھے اور مذہبی نظریے کی تبلیغ یا مذہبی مقامات پر تقریر کرنے میں ملوث تھے۔ اس میں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ چونکہ پولیس نے کووڈ- 19 کا ٹیسٹ لیا تھا، جو منفی تھا، اس لئے "انفیکشن پھیلانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے اور پولیس کے دعوے کے مطابق ان الزامات کو ثابت کرنے کے لئے کوئی مادی ثبوت موجود نہیں ہے۔"


بامبے ہائی کورٹ ناگپور بینچ کے جسٹس وی ایم دیشپانڈے اور جسٹس اے بی بورکر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ناگپور پولیس کی فردجرم کو خارج کر دیا اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔
بامبے ہائی کورٹ ناگپور بینچ کے جسٹس وی ایم دیشپانڈے اور جسٹس اے بی بورکر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ناگپور پولیس کی فردجرم کو خارج کر دیا اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔


ججوں نے مزید کہا کہ "تفتیشی حکام نے درخواست گزاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں بغیر کسی دائرہ اختیار کے کام کیا اور پولیس کے ذریعہ کی جانے والی تحقیقات بھی بغیر کسی دائرہ اختیار کے تھی اور انہوں نے میانمار کے شہریوں کے خلاف ایف آئی آر کو خارج کردیا۔ اپنی درخواست میں انہوں نے بتایا کہ وہ 2 مارچ کو کولکاتا پہنچے اور پھر دہلی روانہ ہوگئے اور وہاں مرکز کے اجتماع میں شرکت کے بعد، 6 مارچ کو مزید سرگرمیوں کے لئے ناگپور پہنچ گئے اور پھر مرکز چلے آئے، جہاں انہیں 10 دن بعد کوارنٹائن بھیج دیا گیا، جہاں ان کا کووڈ- 19 ٹیسٹ منفی تھا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 24, 2020 10:28 PM IST