உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Booster Dose:کووی شیلڈ یا کوویکسین کی دونوں ڈوز لے چکے لوگوں کو بوسٹر ڈوز کوربیویکس دینے پر غور کرے گا NTAGI

    NTAGI  بوسٹر ڈوز کو لے کر کوربیویکس کو دے سکتا ہے جلد منظوری۔

    NTAGI بوسٹر ڈوز کو لے کر کوربیویکس کو دے سکتا ہے جلد منظوری۔

    Booster Dose: ملک میں ایک بار پھر کورونا کے نئے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرناٹک میں 230 نئے کووڈ معاملے سامنے آئے ہیں، جس سے ریاست میں کورونا کا خوف بڑھ گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:جنہوں نے Covishield یا Covaccine کی دونوں خوراکیں لی ہیں انہیں 'Biological E' کوربیویکس ویکسین دینے کی اجازت اور دوسری بوسٹر ڈوز و احتیاطی ڈوز کے درمیان وقفہ کرم کرنے کے لئے NTAGI کی میٹنگ جلد ہی منعقد ہوگی۔ نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ آن امیونائزیشن (NTAGI) پانچ سے 12 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ویکسین کے ڈیٹا کا بھی جائزہ لے سکتا ہے۔ ڈرگس کنٹرولر جنرل آف انڈیا (DCGI) نے اتوار کو کوربیویکس کو 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے بوسٹر خوراک کے طور پر منظوری دی۔

      کوربیویکس کے ڈیٹا کا جائزہ لے گا این ٹی جی آئی
      'RBD پروٹین سب یونٹ' ویکسین، کوربیویکس،ہندوستان کی پہلی مقامی طور پر تیار کردہ ویکسین کے طور پر فی الحال 12 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کے حفاظتی ٹیکے لگانے میں استعمال ہو رہی ہے۔ ایک سرکاری ذریعہ نے کہا، این ٹی اے جی آئی Carbevax کے ڈیٹا کا جائزہ لے گا، جسے DCGI نے ایک بوسٹر کے طور پر منظور کیا ہے، تاکہ کووی شیلڈ یا کوویکسین کے ساتھ مکمل طور پر ویکسین شدہ افراد کو اس کا انتظام کرنے کی اجازت دی جا سکے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Covid-19: امریکہ میں نے 1 ملین کوویڈ 19 اموات کا سنگین سنگ میل عبور، کیاکورونا مریضوں....؟

      یہ بھی پڑھیں:
      مہاراشٹر میں Covid-19 نے پسارے پاوں، لگاتار تیسرے دن نئے مریضوں کی تعداد 1000 سے پار

      کرناٹک میں بڑھ رہے ہیں کورونا کے کیسیز
      ملک میں ایک بار پھر کورونا کے نئے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرناٹک میں 230 نئے کووڈ معاملے سامنے آئے ہیں، جس سے ریاست میں کورونا کا خوف بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے میں ریاست میں کووڈ-19 کے معاملات میں اضافے کے بعد محکمہ صحت نے کئی اقدامات کیے ہیں۔ کووڈ ایکسپرٹ کمیٹی کی میٹنگ میں موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور محکمہ نے سیرولوجیکل سروے کیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: