உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تبلیغی جماعت پر سعودی عرب کے ذریعہ پابندی لگانے کے معاملے پرجمیعۃ علمائے ہندکےدونوں گروپ فکرمند

    سعودی عرب کے ذریعہ تبلیغی جماعت پر پابندی لگانے کے معاملے میں جمیعت علمائے ہند کے دونوں گروپ بے چین ہوگئے ہیں اور تشویش کا اظہارکیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا ارشد مدنی نے سعودی عرب کے سفیر سعود محمد بن ساطی سے ملاقات کی ہے جبکہ مولانا محمود مدنی نے میڈیا کے سامنے آکر تبلیغی جماعت کی حمایت میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ذریعہ کیا گیا فیصلہ غلط ہے، تبلیغی جماعت ایک اصلاحی ہے اور اس کی جانب سے کسی قسم کا غلط  کام نہیں کیا گیا ہے۔

    سعودی عرب کے ذریعہ تبلیغی جماعت پر پابندی لگانے کے معاملے میں جمیعت علمائے ہند کے دونوں گروپ بے چین ہوگئے ہیں اور تشویش کا اظہارکیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا ارشد مدنی نے سعودی عرب کے سفیر سعود محمد بن ساطی سے ملاقات کی ہے جبکہ مولانا محمود مدنی نے میڈیا کے سامنے آکر تبلیغی جماعت کی حمایت میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ذریعہ کیا گیا فیصلہ غلط ہے، تبلیغی جماعت ایک اصلاحی ہے اور اس کی جانب سے کسی قسم کا غلط  کام نہیں کیا گیا ہے۔

    سعودی عرب کے ذریعہ تبلیغی جماعت پر پابندی لگانے کے معاملے میں جمیعت علمائے ہند کے دونوں گروپ بے چین ہوگئے ہیں اور تشویش کا اظہارکیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا ارشد مدنی نے سعودی عرب کے سفیر سعود محمد بن ساطی سے ملاقات کی ہے جبکہ مولانا محمود مدنی نے میڈیا کے سامنے آکر تبلیغی جماعت کی حمایت میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ذریعہ کیا گیا فیصلہ غلط ہے، تبلیغی جماعت ایک اصلاحی ہے اور اس کی جانب سے کسی قسم کا غلط  کام نہیں کیا گیا ہے۔

    • Share this:
    نئی دہلی: سعودی عرب کے ذریعہ تبلیغی جماعت پر پابندی لگانے کے معاملے میں جمیعت علمائے ہند کے دونوں گروپ بے چین ہوگئے ہیں اور تشویش کا اظہارکیا جا رہا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی جانب سے پہلے ہی اس معاملے میں بیان جاری کیا گیا تھا اور سعودی عرب کے فیصلے کو غلط بتایا گیا تھا۔ تاہم آج اس سلسلے میں مولانا ارشد مدنی نے سعودی عرب کے سفیر سعود محمد بن ساطی سے ملاقات کی ہے جبکہ مولانا محمود مدنی نے میڈیا کے سامنے آکر تبلیغی جماعت کی حمایت میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ذریعہ کیا گیا فیصلہ غلط ہے، تبلیغی جماعت ایک اصلاحی ہے اور اس کی جانب سے کسی قسم کا غلط  کام نہیں کیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، آج تبلیغی جماعت کے خلاف مملکت سعودیہ عربیہ کی وزارت شؤن اسلامیہ کے بیان کے پس منظر میں جمعیۃ علماء ہندکے صدر مولانا ارشد مدنی نے ہندوستان میں سعودی سفیر سعود محمد بن ساطی سے ملاقات کے دوران کہا کہ تبلیغی جماعت کے سلسلہ میں مملکت سعودیہ کی وزارت شؤن اسلامیہ کا بیان پورے عالم کے مسلمانوں کے لئے انتہائی تشویش کا سبب بن گیا ہے، چونکہ جماعت تبلیغ دیوبند ی مکتب فکرکی جماعت ہے، اس لئے یہ امردارالعلوم دیوبند اور جمعیۃعلماء ہند کے لئے بھی تشویش کا باعث ہے۔ مملکت سعودیہ اپنے ملک کے اندرجماعت کے بارے میں کیا موقف اختیارکرتی ہے، ہمیں اس سے کوئی بحث نہیں اورنہ ہم نے کبھی اس سلسلہ میں کوئی بات کی ہے، لیکن اس وقت وزارت شؤن اسلامیہ کی طرف سے تبلیغی جماعت پر جس طرح کی تہمت لگائی گئی ہے، صرف جماعت تبلیغ ہی کے لئے نہیں بلکہ تمام مسلمانوں اورخاص طورپر دین اورمذہب سے وابستہ لوگوں کے لئے بہت تکلیف دہ ہے۔

    مولانا ارشد مدنی نے سعودی عرب کے سفیر سعود محمد بن ساطی سے ملاقات کرکے تبلیغی جماعت سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے۔
    مولانا ارشد مدنی نے سعودی عرب کے سفیر سعود محمد بن ساطی سے ملاقات کرکے تبلیغی جماعت سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے۔


    مولانا ارشد مدنی نے مزید کہا کہ ہم نے یہ چاہا کہ ہم اپنی اس تکلیف اورجذبات کو مملکت سعودیہ کے سفیر محترم کے واسطہ سے وزیر شؤن اسلامیہ تک پہنچائیں اور ان کے اس بیان کے نتیجہ میں کیا مشکلات اور بدترین نتائج دین سے وابستہ مسلمانوں کو پہنچ سکتے ہیں ان سے باخبر کردیں، مجھے بڑی خوشی ہے کہ سفیرمحترم نے بڑے اچھے ماحول میں میرے خط کوپڑھا اور اس موضوع پر گفتگو کی اور اس سلسلہ میں مجھے بہترسے بہتر تعاون دینے کا انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اوریہ بھی فرمایاہے کہ تم یہ سمجھ لوکہ یہ خط وزارت شؤن اسلامیہ تک پہنچ چکاہے وہاں سے مجھے یہ توقع ہے کہ تمہاری توقع کے مطابق جواب آئے گا۔

    مولانا محمود مدنی نے کہا کہ سعودی عرب ہو یا کوئی دوسرا ملک اگر کوئی بھی اس طرح کی بات کرے گا تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔
    مولانا محمود مدنی نے کہا کہ سعودی عرب ہو یا کوئی دوسرا ملک اگر کوئی بھی اس طرح کی بات کرے گا تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔


    دوسری جانب مولانا محمود مدنی نے میں نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تبلیغی جماعت کا دہشت گردی جیسے سنگین الزامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مولانا محمود مدنی نے کہا کہ سعودی عرب ہو یا کوئی دوسرا ملک اگر کوئی بھی اس طرح کی بات کرے گا تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تبلیغی جماعت کے کام سے ہرکوئی واقف ہے۔ پوری دنیا میں اس کا کام ہے، ہم اس معاملے کو عام لوگوں تک لے کر جائیں گے اور علماء اس معاملے میں تبلیغی جماعت کے سلسلے میں دفاع کریں گے۔ مولانا محمود مدنی نے کہا تبلیغی جماعت ایک امن پسند دینی و اصلاحی تحریک ہے، جو 100 سال سے زیادہ وقت سے سماج میں کام کرتی آرہی ہے، جو بھی ممالک اور حکومت تبلیغی جماعت کو لے کر مخالفت کر رہے ہیں  وہ حقیقت سے لاعلم اور پروپیگنڈے سے متاثر ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: