ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

راہل گاندھی کے بیان پربی جے پی ارکان کااحتجاج: ہنگامہ آرائی کے دوران پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس ہواختم

راہل گاندھی کے میک ان انڈیا کی جگہ’ریپ ان انڈیا‘والے بیان پرآج لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ ہوا

  • Share this:

مرکزی وزیراسمرتی ایرانی سمیت بی جے پی کے ارکان نے کانگریس لیڈرراہل گاندھی کے میک ان انڈیا کی جگہ’ریپ ان انڈیا‘والے بیان پرآج لوک سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا۔جس کی وجہ سے ایوان کی غیرمعینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اسپیکراوم برلا نے پارلیمنٹ ہاؤس حملے میں شہید ہوئے پولیس اہلکاروں اور ملازمین کو خراج عقیدت پیش کیا۔ شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد بی جے پی ارکان نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کرراہل گاندھی کے ’ریپ ان انڈیا‘ والے بیان پرہنگامہ شروع کردیا۔ بی جے پی کے ارکان راہل گاندھی سے ایوان میں آکر معافی مانگنے کا مطالبہ کرنے لگے۔



خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر اسمرتی ایرانی نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے جب کسی بڑے سیاسی پارٹی کے لیڈر نے ملک کی خواتین کے لئے اس طرح کے شرمناک بیان دیئے ہیں۔انہوں نےراہل گاندھی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’ریپ‘ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ کیا وہ چاہتے ہیں کہ خواتین کے ساتھ ریپ ہو؟ اس دوران بی جے پی کی سبھی خاتون ا رکان اپنی سیٹ کے قریب کھڑی ہو گئیں اور ’راہل گاندھی معافی مانگو‘ کے نعرے لگانے لگیں۔
 


پارلیمانی امور کے وزیر ارجن رام میگھوال نے راہل گاندھی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے لئے اشتعال انگیز الفاظ کے استعمال کے لئے انہیں ایوان میں آکر معافی مانگنی چاہئے۔پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ ہماری حکومت ’میک ان انڈیا‘ کے تحت ملک کی ترقی کرنا چاہ رہی ہے لیکن راہل گاندھی کو کیا ہو گیا ؟ راہل گاندھی نے ہندوستانی خواتین کو کیا سمجھ رکھا ہے، انہیں جواب دینا چاہئے۔ بی جے پی کی لاکٹ چٹرجی اور سنجے جیسوال نے بھی راہل گاندھی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب راجیہ سبھا میں حالات مختلف نہیں تھے راجیہ سبھا میں بی جے پی کے ارکان نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ریب ان انڈیا والے بیان پرناراضگی کا اظہارکیا اور ان سے معافی مانگنے کی مانگ کی گئی  ۔ ہنگامہ آرائی کے دوران ایوان کی کارروائی کو غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردیاگیاہے۔


ڈی ایم کے کی ایم کنی موجھی نے کہا کہ مرکزی وزیر نے ان کا اور سپریا سلے کا نام لیا ہے کہ ہم اس کا جواب دیں، میں کہنا چاہتی ہوں کہ یہ بیان ایوان کے باہر دیا گیا ہے،وزیراعظم نے ہمیشہ ’میک ان انڈیا‘ کہا ہے، ہم اس کا احترام کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ مصنوعات ہندوستان میں تیار ہوں،لیکن اس ملک میں کیا ہورہاہے۔ یہی راہل گاندھی نے کہا کہ ’میک انڈیاُ نہیں ہورہا ہے، ملک میں خواتین کے عصمت دری ہورہی ہے۔پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی اور ارجن رام میگھوال نے کنی موجھی اور سپریا سلے سے اس معاملے میں مشورہ دینے کی مانگ کی تھی۔ واضح رہے کہ جھارکھنڈ کے ایک عوامی جلسے میں راہل گاندھی نے عصمت دری کے واقعات کے سلسلے میں بیان دیا تھا جس پر آج ایوان میں ہنگامے کے دوران اسپیلر نے لوک سبھا کی کارروائی کوغیرمعینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردیاہے۔
First published: Dec 13, 2019 01:39 PM IST