ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی فسادپربحث کامطالبہ :پارلیمنٹ کےدونوں ایوانوں میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی، کارروائی کل تک ملتوی

دہلی میں گزشتہ دنوں ہونے والے تشدد پر بحث کرانے کی مانگ کو لے اپوزیشن اراکین نے منگل کو لوک سبھا میں زوردار ہنگامہ کیا ۔

  • Share this:
دہلی فسادپربحث کامطالبہ :پارلیمنٹ کےدونوں ایوانوں میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی، کارروائی کل تک ملتوی
دہلی فساد پر بحث کا مطالبہ : پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی، کارروائی تک ملتوی

دہلی میں گزشتہ دنوں ہونے والے تشدد پر بحث کرانے کی مانگ کو لے اپوزیشن اراکین نے منگل کو لوک سبھا میں زوردار ہنگامہ کیا ۔جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرنا پڑاتھا۔ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس، ترنمول کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے دہلی تشدد پر بحث کرانے کے مطالبہ پر ہنگامہ کرنے لگے۔لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ کل جماعتی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ کوئی بھی رکن کسی کی نشست پر نہیں جائے گا۔ اس کی جو بھی خلاف ورزی کرے گا ۔اسے موجودہ پورے سیشن سے معطل کر دیا جائے گا۔ یہ اصول برسر اقتدار اور اپوزیشن دونوں پارٹیوں پر لاگو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان سب کی رضامندی اور تعاون سے چلتا ہے۔ اوم برلا نے کہا کہ دہلی فساد پر بحث ہولی تہوار کے بعد ہی کی جاسکتی ہے۔ تاہم ہنگامہ آرائی جاری رہی اور اجلاس کی کارروائی کو دن بھر کے لیے ملتوی کردیاگیاہے۔



کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ ہم لوگ عام لوگوں کے نمائندے ہیں اس لئے ان سے منسلک مسائل کو ایوان میں اٹھانا ان کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں جس طرح کے تشدد ہوئے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے، اس پر خاموش کیسے رہ سکتے ہیں۔ترنمول كانگریس کے سدیپ بندوپادھیائے نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے سنگین ایشوز پر بھی حکومت کی جانب سے جب کوئی جواب نہیں ملتا ہے ۔تب ہی ہنگامہ جیسے صورتحال پیدا ہوتے ہیں۔ حکومت کو اپوزیشن کی باتوں کو سننا چاہئے اور اس کا مناسب جواب دینا چاہئے۔

پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ ایوان میں امن بنانے کی ضرورت ہے تب ہی کسی موضوع پر بحث کی جا سکتی ہے۔ کل جماعتی میٹنگ میں ایوان کو لے کر جو فیصلہ کیا گیا ۔اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ دہلی سے متعلقہ موضوع وقفہ صفر میں اٹھانا چاہئے۔ اس کے بعد اپوزیشن پارٹیوں نے ہنگامہ شروع کر دیا۔اوم برلا نے ارکان کو پرسکون کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں پلےكارڈ لے کر نہیں آنا ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ آپ لوگ فیصلہ کر لیں کہ ایوان اب پلےكارڈ سے چلے گا۔اس کے بعد ہنگامہ بڑھ گیا۔ اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دوپہر بارہ بجے تک کے لئے ملتوی کر دی تھی۔


راجیہ سبھا میں منگل کو دہلی تشدد کے سلسلے میں برسراقتدار پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان نوک جھونک اور زبردست ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوسری مرتبہ تین بجے تک ملتوی کرنی پڑی تھی۔لنچ کے بعد ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ضروری دستاویز ایوان میں پیش کئے اور مرکزی سنسکرت یونیورسٹی بل 2019 پر مزید بحث کےلئے انا ڈی ایم کے این نونیت کرشن کا نام پکارا گیاتو کانگریس سمیت اپوزیشن کے سبھی اراکین کھڑے ہوگئے اور دہلی تشدد پر بحث کا مطالبہ کرنے لگے۔


کانگریس کے آنند شرما نے لا اینڈ آرڈر کے تعلق سے سوال کرنے کی کوشش تو ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ افراتفری کے دوران نظم ونسق پر سوال نہیں کیا جاسکتا۔نونیت کرشن کے ایوان میں موجود نہیں ہونے کی وجہ سےہری ونش نے جنتا دل یو کی پروین کہکشاں کو بولنے کےلئے کہا اور وہ بولنے لگی تو اپوزیشن کے اراکین نے شوروغل کرتے ہوئے کہا ہے کہ شوروغل کے دوران اراکین کو بولنے کےلئے کیسے کہا جاسکتا ہے۔ ارکان کی مسلسل ہنگامہ آرائی کو دیکھتے ہوئے راجیہ سبھا کی کارروائی بھی کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

یواین آئی ان پٹ کے ساتھ
First published: Mar 03, 2020 04:03 PM IST