உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Amazon پھر تنازعات میں! ترنگے والی ٹی شرٹ اور جوتے بیچنے کے الزام میں مخالفت کا سامنا ، ٹویٹر پر بائیکاٹ مہم ٹرینڈ

    ٹویٹر پر 'Boycott Amazon' کررہا ہے ٹرینڈ ، جانئے کیا ہے اس کی وجہ

    ٹویٹر پر 'Boycott Amazon' کررہا ہے ٹرینڈ ، جانئے کیا ہے اس کی وجہ

    Amazon Boycott Trending On Twitter: دراصل ایمیزن پر فروخت ہورہے چاکلیٹ ریپر ، فیس ماسک ، سیریمک مگ ، کپڑوں جیسے کئی پروڈکٹس پر ترنگا چھپا ہوا ہے ۔ کئی یوزرس نے ٹویٹ میں لکھا کہ یہ قومی پرچم سے متعلق کوڈ کی خلاف ورزی ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : آن لان شاپنگ پلیٹ فارم ایمیزن کو ٹویٹر یوزرس کی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ٹویٹر پر #Amazon_Insults_National_Flag  ٹرینڈ کررہا ہے ۔ دراصل ایمیزن پر فروخت ہورہے چاکلیٹ ریپر ، فیس ماسک ، سیریمک مگ ، کپڑوں جیسے کئی پروڈکٹس پر ترنگا چھپا ہوا ہے ۔ کئی یوزرس نے ٹویٹ میں لکھا کہ یہ قومی پرچم سے متعلق کوڈ کی خلاف ورزی ہے ۔ اس کوڈ کے مطابق پرچم کا استعمال کسی بھی ڈریس یا وردی کے حصے کے طور پر نہیں کیا جائے گا ۔ یہ کشیدہ کاری یا کشن ، رومال ، نیپکن یا بکسے پر پرنٹ نہیں ہونا چاہئے ۔ حالانکہ یہ صاف نہیں ہے کہ پرچم میں شامل صرف تین رنگوں کا استعمال کرنا بھی فلیگ کوڈ کے ذریعہ ممنوع کیا گیا ہے یا نہیں ۔

      کئی لوگوں نے ایمیزن کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ 2017 میں ہوئے تنازع جیسا ہی نظر آتا ہے ۔ کچھ یوزرس نے کہا کہ ایمیزن اپنی فروخت بڑھانے کیلئے سستے طریقوں کا استعمال کررہی ہے ۔ حالانکہ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ کمپنی ہندوستانی صارفین کو خوش کرنے کیلئے سخت محنت کررہی ہے ۔

      بتادیں کہ کمپنی نے 73 ویں یوم جمہوریہ سے پہلے یعنی پچھلے ہفتے یوم جمہوریہ کے موقع پر سیل چلائی تھی ۔ کچھ یوزرس نے اس سیل میں ایسے جوتے اور کپڑے بیچنے کا الزام لگایا ہے ، جن پر ہندوستانی پرچم چھپا ہوا تھا ۔ ہم نے بھی جب سرسری طور پر 'ٹرائی کلر' سرچ کیا تو کئی کپڑے ایسے دیکھنے کو ملے ، جن پر ترنگا چھپا ہوا تھا ۔ ہمیں ترنگے والے جوتے نہیں ، ہم نے سرچ میں یہ بھی پایا کہ کچھ فیس ماسک بھی ترنگے میں تھے ، لیکن ان پر اشوک چکر نہیں تھا ۔

      خیال رہے کہ 2019 میں ہندو دیوی دیوتاوں کی تصویر والی ٹوائیلٹ سیٹ کوور اور ڈورمیٹس فروخت کرنے کا الزام لگا تھا ، تب بھی ایسی ہی بائیکاٹ مہم چلی تھی ۔ اس سے پہلے 2017 میں ایمیزن کی کناڈا والی ویب سائٹ پر ہندوستانی ترنگے کی تصویر والے ڈورمیٹ بیچنے کا الزام لگا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: