உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آلٹ نیوز جرنلسٹ محمد زبیر کو بڑی راحت، پٹیالہ ہاوس کورٹ سے ملی ضمانت

    آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر (فائل فوٹو)

    آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر (فائل فوٹو)

    Mohammad Zubair got bail: آلٹ نیوز کے کو فاونڈر محمد زبیر کو 50 ہزار کے نجی مچلکے پر ضمانت ملی ہے۔ دہلی پولیس نے محمد زبیر کی ضمانت کی مخالفت کی تھی۔ عدالت نے محمد زبیر کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ وہ بغیر اجازت ملک چھوڑ نہیں جائیں گے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: متنازعہ ٹوئٹ معاملے میں آلٹ نیوز کے کو فاونڈر محمد زبیر پٹیالہ ہاوس کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ پٹیالہ ہاوس کورٹ کی سیشن کورٹ سے محمد زبیر کو ضمانت مل گئی ہے۔ محمد زبیر کو 50 ہزار کے نجی مچلکے پر ضمانت ملی ہے۔ دہلی پولیس نے محمد زبیر کی ضمانت کی مخالفت کی تھی۔ عدالت نے محمد زبیر کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ وہ بغیر اجازت ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔

      واضح رہے کہ محمد زبیر کی ضمانت عرضی پر دہلی کی پٹیالہ ہاوس کورٹ میں جمعرات کو بحث ہوگئی تھی۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ محفوظ رکھ لیا تھا۔ آج عدالت نے اس عرضی پر فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت میں محمد زبیر کی طرف سے ان کی وکیل ورندا گروور اور دہلی پولیس کی طرف سے اسپیشل پبلک پروسیکیوٹر اتل شریواستو نے موقف رکھا تھا۔

      معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس سے اس ٹوئٹ کی تاریخ پوچھی تھی، جس پر معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ایس پی پی اتل شریواستو نے ٹوئٹ کی تاریخ کے بارے میں عدالت کو جانکاری دی تھی۔ ایس پی پی کا کہنا تھا کہ ٹوئٹ 2014 سے پہلے اور 2014 کے بعد کے ہیں۔ یہ خاص طور پر واضح ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔ عدالت نے پوچھا کہ اس کا ارادہ کیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      پاکستانی صحافی کے الزامات کا Hamid Ansari نے دیا جواب 

      ایس پی پی نے کہا تھا کہ مقصد یہ ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ 2014 میں حکومت کی تبدیلی ہوئی تھی۔ دوسرے فریق کے لوگوں کو اکسانے اور غلط خواہش پیدا کرنے کے لئے یہ ٹوئٹ کیا گیا۔ ایس پی پی نے کہا کہ ہنومان جی برہماچاری ہیں اور آپ نے ٹوئٹ میں ہنی مون سے موازنہ کیا ہے۔

      وہیں پولیس کا دعویٰ تھا کہ محمد زبیر کو 2022 میں غیر ملکی فنڈ بھی ملا تھا۔ وہ بھی ایران، سعودی عرب، پاکستان وغیرہ سے۔ وہیں اس پر محمد زبیر کی وکیل ورندا گروور نے کہا تھا کہ میں ثابت کردوں گی اور یہ جانکاری کورٹ کو بتاوں گی کہ کوئی غیر ملکی تعاون نہیں ہے، میں نے کسی التزام کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: