ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

گلبرگہ کی خواجہ بندہ نواز میڈیکل کالج میں بدعنوانی کا معاملہ، کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سدا شیو پاٹل معطل

گلبرگہ کی خواجہ بندہ نواز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس میں طلبہ سے پیسے لےکر پریکٹیکل امتحان میں پاس کروانے اور رشوت نہ دینے والے طلبہ کو فیل کرنےکا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد کالج کے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر سدا شیو پاٹل کو معطل کیا گیا ہے۔

  • Share this:
گلبرگہ کی خواجہ بندہ نواز میڈیکل کالج میں بدعنوانی کا معاملہ، کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سدا شیو پاٹل معطل
میڈیکل کالج میں بدعنوانی کا معاملہ: کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سدا شیو پاٹل معطل

بنگلور: گلبرگہ کی خواجہ بندہ نواز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس میں بدعنوانی اور رشوت خوری کا سنگین معاملہ پیش آیا ہے۔ طلبہ سے پیسے لے کر پریکٹیکل امتحان میں پاس کروانے اور رشوت نہ دینے والے طلبہ کو فیل کرنے کا معاملہ منظر عام پر آیا ہے۔ اس سنگین الزام میں کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سدا شیو پاٹل کو معطل کیا گیا ہے۔ طلبہ کے وکیل رحمت اللہ کوتوال نے بنگلورو میں یہ جانکاری فراہم کی۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال نے کہا کہ جنوری 2020 میں ہوئے ایم بی بی ایس فائنل ائیر کے امتحانات میں طلبہ سے رشوت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔


سرجری کے پریکٹیکل سبجیکٹ کیلئے کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سدا شیو پاٹل نے دو مرتبہ اسٹوڈنٹس سے رشوت طلب کی ہے۔ ہر طالب علم سے پانچ پانچ ہزار روپئےکا مطالبہ کیا گیا ہے۔ رشوت نہ دینے والے 18 طلبہ کو سرجری کے پریکٹیکل امتحان میں فیل کیا گیا۔ فائنل ایئر کے متاثرہ طلباء وطالبات، انصاف کیلئے پہلے کالج کی انتظامیہ سے رجوع ہوئے، خواجہ بندہ نواز میڈیکل کالج کی انتظامیہ نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔  اس کے بعد پریشان حال طلبہ، راجیو گاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسس سے رجوع ہوئے۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار نےکے بی این میڈیکل کالج کے پرنسپل کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے کی تحقیق کریں۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ کالج کے پرنسپل نے ڈاکٹر پی ایس شنکر کی صدارت میں جانچ کمیٹی قائم کرتے ہوئے یہ رپورٹ پیش کی تھی کہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سدا شیو پاٹل کی جانب سے 5000 روپئے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی سے کوئی رقم حاصل کی گئی۔ کالج کمیٹی کی رپورٹ سے انصاف نہ ملنے کے بعد متاثرہ طلبہ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ کرناٹک ہائی کورٹ کی کلبرگی شاخ نے اس پورے معاملے میں یو جی سی کے گائڈ لائنس کے مطابق کمیٹی تشکیل دینے کی راجیو گاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسس کے وائس چانسلرکو ہدایت دی۔ لہٰذا یونیورسٹی نے Students Grievances Redressal Committee  تشکیل دیتے ہوئے معاملہ کی دوبارہ تحقیقات کروانے کی ہدایت دی۔ اس کمیٹی نے طلبہ کے بیانات درج کرتے ہوئے، دیگر امورکا جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی۔ یو ایس جی آرکمیٹی کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2020 کے پریکٹیکل امتحانات میں ڈاکٹر سدا شیو پاٹل کی جانب سے 5000 روپئےکا مطالبہ اور رقم حاصل کرنے کا ثبوت موجود ہے۔ لہذا ڈاکٹر سدا شیو پاٹل کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔




اس کمیٹی نے جنرل سرجری کے مضمون کی دوبارہ پریکٹیکل امتحان کسی نیوٹرل سینٹر میں منعقد کرنےکی ہدایت دی ہے۔ایڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال نے کہا کہ جانچ رپورٹ میں رشوت خوری کی تصدیق کے بعد کے بی این میڈیکل کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سدا شیو پاٹل کو معطل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالج میں بدعنوانی کا یہ معاملہ انتہائی افسوسناک ہے، رشوت نہ دینے کی وجہ سے پریکٹیکل امتحان میں فیل کئے گئے فائنل ائیر ایم بی بی ایس کے طلبہ اپنے مستقبل کو لیکر کافی پریشان تھے۔ کیونکہ رواں تعلیمی سال میں اگر امتحان منعقد نہ کیا گیا ہوتا تو متاثرہ طلباء کو اپنا کورس مکمل کرنے کیلئے تقریباً 2 سال تک انتظار کرنا پڑتا، اب عدالت کے ذریعہ 18 طلبہ کو  راحت ملی ہے۔

اس اکیڈمک ائیر میں پریکٹیکل سبجیکٹ کی دوبارہ امتحان منعقد کرنے کی کمیٹی نے یونیورسٹی کو ہدایت دی ہے۔ ایڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال نےکہا میڈیکل کورسوں میں اس طرح  بدعنوانی، رشوت خوری کی بنیاد پر پاس اور فیل کے معاملات پیش آئیں تو مستقبل میں کیسے ڈاکٹر سماج میں آئیں گے، یہ سوچنے کی بات ہے۔ اس پورے معاملے میں خواجہ بندہ نواز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس کی انتظامیہ پر بھی انگلی اٹھ رہے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 06, 2020 10:47 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading