ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک میں جائے گی بی ایس یدی یورپا کی کرسی؟ جانئے سدانند گوڑا نے کیا دیا جواب

B S Yediyurappa News: کرناٹک میں وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کی کرسی رہے گی یا جائے گی، اس پر قیاس آرائیوں کا دور جاری ہے۔ اس درمیان ریاست کے عظیم بی جے پی لیڈر نے کہا کہ کرناٹک میں قیادت تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

  • Share this:
کرناٹک میں جائے گی بی ایس یدی یورپا کی کرسی؟ جانئے سدانند گوڑا نے کیا دیا جواب
کرناٹک میں جائے گی بی ایس یدی یورپا کی کرسی؟ جانئے سدانند گوڑا نے کیا کہا

بنگلور: سابق مرکزی وزیر ڈی وی سدانند گوڑا نے بدھ کو کہا کہ کرناٹک میں قیادت تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ بی جے پی کی مرکزی قیادت ریاست میں ترقیاتی سرگرمیوں اور کووڈ-19 سے نمٹنے کی کوششوں سے مطمئن ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کی جگہ نئی قیادت کو اقتدار دینے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ حالانکہ، بی ایس یدی یورپا خود استعفیٰ دینے سے صاف انکار کرچکے ہیں۔


ریاست میں قیادت تبدیلی کی قیاس آرائیوں کے درمیان بنگلور شمال سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ سدا نند گوڑا نے یہاں صحافیوں سے کہا، ’مجھے نہیں لگتا کہ قیادت تبدیلی کے بارے میں چل رہی قیاس آرائیوں میں کوئی سچائی ہے کیونکہ یہ ایسے فیصلے ہیں، جو ہمارے مرکزی سطح کی لیڈروں کے ذریعہ ریاستوں میں سیاسی صورتحال کو دھیان میں رکھتے ہوئے لئے جاتے ہیں‘۔


انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جانکاری ہے کہ وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کے ذریعہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو ’موجودہ صورتحال‘ کے بارے میں تفصیلی طور پر واقف کرائے جانے کے بعد اب تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ سدا نند گوڑا نے کہا کہ کووڈ-19 وبا کے دوران وزیر اعلیٰ کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم اور ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار کی سراہنا کی گئی ہے اور انہیں ہٹانے کا کوئی سبب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’میرا ماننا ہے کہ قیادت تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ سبھی قیاس آرائیاں ہیں‘۔


بی جے پی کے ریاستی صدر نلن کمار کی اس مبینہ آڈیو، جس میں انہوں نے قیادت تبدیلی اور ایک نئی ٹیم کی تشکیل کی طرف اشارہ کیا ہے، کے بارے میں پوچھے جانے پر سدا نند گوڑا نے کہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے خود اسے فرضی بتاکر اسے مسترد کر دیا ہے۔

سدا نند گوڑا نے کہا کہ ریاست کے لوگ یدی یورپا کی پالیسیوں اور ان کے ’اقتدار کے طریقے‘ کے سبب ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’مجھے لگتا ہے کہ قیادت تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ باقی قومی سطح کے لیڈروں پر چھوڑ دیا گیا ہے‘۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 21, 2021 09:57 PM IST