ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

دہلی فساد: پُرتشدد بھیڑ نے بی ایس ایف جوان محمدانیس کےگھر میں لگائی آگ، کہا- آؤ پاکستانی، دیتےہیں شہریت

بی ایس ایف کےگھر میں شادی تھی۔ لاکھوں کی نقدی جل گئی۔ گھر تہس نہس ہوگیا۔ بی ایس ایف کےجوان نےتین سال تک جموں وکشمیر میں اپنی خدمات دی۔ وہ اس حادثہ پرحیران ہیں۔

  • Share this:
دہلی فساد: پُرتشدد بھیڑ نے بی ایس ایف جوان محمدانیس کےگھر میں لگائی آگ، کہا- آؤ پاکستانی، دیتےہیں شہریت
بی ایس ایف کے گھر میں شادی تھی۔ لاکھوں کی نقدی جل گئی۔ گھرتہس نہس ہوگیا۔ بی ایس ایف کے جوان نے تین سال تک جموں وکشمیر میں اپنی خدمات دی۔ وہ اس حادثہ پر حیران ہیں۔

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں پھیلے فساد میں بھیڑ نےبارڈرسیکورٹی فورس (بی ایس ایف)کےجوان کا گھر تک نہیں بخشا۔ 25 فروری کی دوپہرکھجوری خاص میں بھیڑ ایک ایک گھرمیں توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی جارہی تھی۔ ان سب کے درمیان ایک بی ایس ایف جوان کا گھرجلانےکا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کھجوری خاص واقع گھرکی نیم پلیٹ پرلکھا ہےکہ مکان نمبر 76 بی ایس ایف کے محمد انیس کا ہے۔ اس پر بی ایس ایف کا علامتی نشان بھی لگا ہوا ہے، لیکن یہ اس گھرکو تشدد سے بچانےکےلئے کافی نہیں تھا۔ پہلے گھر کے باہر کھاڑی کاروں میں آگ لگا دی گئی۔ پھرکچھ دیرتک بھیڑنےگھرپرپتھراؤکیا۔ مشتعل بھیڑنے محمد انیس کےگھر میں سلینڈر پھینک کر کہا- 'ادھر آ پاکستانی، تجھےشہریت دیتےہیں'۔


محمد انیس نے پیرا ملٹری فورس میں اپنا کیریئر سال 2013 میں شروع کیا اورتقریباً تین سال جموں وکشمیر میں خدمات دی۔ انیس کے ساتھ ان کے 55 سالہ والد محمد مونس، 59 سالہ چچا محمد احمد اور 18 سالہ چچازاد بہن نیہا پروین گھر میں تھے۔ آگے کسی بھی ناگہانی حادثہ کے پیش نظر کسی طرح اپنے گھر سے باہرنکلے اور پیراملٹری فورس نے ان کی مدد کی۔


بی ایس ایف کے جوان کے گھر کےقریب کھجوری خاص کی دو لین میں 35 گھروں کونذر آتش کردیا گیا۔ تصویر: نیوز 18
بی ایس ایف کے جوان کے گھر کےقریب کھجوری خاص کی دو لین میں 35 گھروں کونذر آتش کردیا گیا۔ تصویر: نیوز 18


کوئی بھی پڑوسی حملے میں شامل نہیں

اس گھر میں دو شادیاں ہونی تھیں۔ نیہا پروین کی اپریل میں شادی ہونی تھی اور انیس کو آئندہ ماہ شادی کرنی تھی۔ فیملی نےکہا، 'ہماری پوری زندگی کی جمع پونجی، زیورات، دو سونےکے ہار، چاندی کے زیورات سب کچھ چلا گیا'۔ انہوں نےکہا، 'ہم نے قسط پر زیور خریدے تھے۔ ہر ماہ پیسے دیتے تھے۔ شادی کے انتظام کےلئے تین لاکھ نقد بھی دیگر قیمتی سامان کےساتھ جل گئے۔ کھجوری خاص ایک ہندو اکثریتی علاقہ ہے، لیکن محمد انیس کی فیملی کا کہنا ہےکہ ان کا کوئی بھی پڑوسی حملے میں شامل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا، 'لوگ باہر سے آئے تھے۔

زیبا وارثی کی رپورٹ
First published: Feb 28, 2020 05:36 PM IST