اپنا ضلع منتخب کریں۔

    راجستھان میں پارک رینجرس کی فائرنگ کا بی ایس ایف نے دیا منہ توڑ جواب، کوئی نقصان نہیں

    راجستھان میں پارک رینجرس کی فائرنگ کا بی ایس ایف نے دیا منہ توڑ جواب، کوئی نقصان نہیں. (فائل فوٹو)

    راجستھان میں پارک رینجرس کی فائرنگ کا بی ایس ایف نے دیا منہ توڑ جواب، کوئی نقصان نہیں. (فائل فوٹو)

    ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ راجستھان میں بین الاقوامی سرحد پر فائرنگ کا واقعہ بہت کم پیش آتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال فروری میں اس سیکٹر میں مکمل سیز فائر کو لے کر اتفاق ہوا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Rajasthan, India
    • Share this:
      راجستھان میں ہند-پاک بین الاقوامی سرحد پر انوپ گڑھ سیکٹر میں پارک رینجرس نے فائرنگ کی ہے۔ بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) نے بھی اس کا منہ توڑ جواب دیا۔ فائرنگ میں ہنوستان کی جانب سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ بی ایس ایف کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہندوستانی فریق کے فوجیوں یا کسانوں میں سے کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

      پاکستان سے اس کا احتجاج درج کرایا جائے گا
      بی ایس ایف کے ترجمان نے کہا کہ فورس نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے اس کا احتجاج درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور ہفتہ کو فلیگ میٹنگ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کسان گارڈ کے تحت سرحدی باڑ کے آگے اپنے کھیتوں میں کام کررہے کسانوں کی سلامتی میں بی ایس ایف کے جوان تعینات تھے۔ دوپہر قریب دو بجے پاک رینجرس نے جوانوں کو نشانہ بنا کر چھ سے سات راونڈ فائرنگ کی۔ اس کے جواب میں بی ایس ایف نے پاک رینجرس کی طرف سے کم سے کم 18 راونڈ فائرنگ کی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      سائیکلونک طوفان 'مینڈوس' کو لے کر 3 ریاستوں میں ریڈ الرٹ، ہواکی رفتار 85 کلو میٹر فی گھنٹہ

      یہ بھی پڑھیں:
      میگھالیہ کے ایک غار نے ہمیں میگھالیائی دور دیا ہے!

      غیر مسلم طلبہ کو کیسے داخلہ دے رہے ہیں مدارس؟ این سی پی سی آر نے سرکار سے جانچ کیلئے کہا

      ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ راجستھان میں بین الاقوامی سرحد پر فائرنگ کا واقعہ بہت کم پیش آتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال فروری میں اس سیکٹر میں مکمل سیز فائر کو لے کر اتفاق ہوا تھا۔ اس کے عبد سے فائرنگ کا یہ دوسرا واقعہ ہے، پہلا واقعہ ستمبر میں اس وقت پیش آیا تھا جب جموں کے ارنیا سیکٹر میں پاک رینجرس نے فائرنگ کی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: