لوک سبھا میں بی ایس پی کے لیڈرعہدے سے ہٹائےگئے کنوردانش علی، یوپی تنظیم میں بھی ہوئی تبدیلی

دانش علی کی ذمہ داری رکن پارلیمنٹ شیام سنگھ یادوکو سونپی گئی ہے۔ پارٹی نے اترپردیش میں تنظیم میں تبدیلی کرتے ہوئےسابق راجیہ سبھا رکن منقادعلی کوریاستی یونٹ کا صدربنایا گیا ہے۔

Aug 07, 2019 11:59 PM IST | Updated on: Aug 07, 2019 11:59 PM IST
لوک سبھا میں بی ایس پی کے لیڈرعہدے سے ہٹائےگئے کنوردانش علی، یوپی تنظیم میں بھی ہوئی تبدیلی

بی ایس پی سربراہ مایاوتی: فائل فوٹو

نئی دہلی:  بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کنوردانش علی کو ان کی ذمہ داری سے ہٹا دیا ہے۔ وہ لوک سبھا میں پارٹی کے قانون ساز پارٹی کے لیڈرتھے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی ایس پی نے اترپردیش میں ضمنی الیکشن کے پیش نظرامروہہ کے رکن پارلیمنٹ دانش علی کی جگہ پرجونپورسے منتخب رکن پارلیمنٹ شیام سنگھ یادوکو لوک سبھا میں پارٹی کا لیڈرمقررکیا ہے۔

بی ایس پی نے بدھ کو یہاں بتایا کہ امبیڈکرنگرسیٹ سے رکن پارلیمنٹ رتیش پانڈے کولوک سبھا میں ڈپٹی لیڈر بنایا ہے۔ حالانکہ ایوان میں پارٹی کے چیف وہپ نگینہ سیٹ سے منتخب گریش چندرجاٹو بدستور اپنےعہدے پر قائم رہیں گے۔ پارٹی نے اترپردیش میں تنظیم میں تبدیلی کرتے ہوئے سابق راجیہ سبھا رکن منقاد علی کو ریاستی یونٹ کا صدر بنا دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اترپردیش یونٹ کے سابق صدر آرایس کشواہا کو پارٹی کی مرکزی یونٹ کا جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ 

بی ایس پی کے ذریعہ جاری پریس ریلیز۔ بی ایس پی کے ذریعہ جاری پریس ریلیز۔

Loading...

بی ایس پی کے ذریعہ ایک پریس ریلیز میں یہ اطلاع دی گئی۔ کہا گیا ہے کہ منقاد علی اورآرایس کشواہا اپنی سابقہ ذمہ داریوں کو نئے عہدیداروں کو سونپنے کے بعد ہی اپنی نئی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ دراصل لوک سبھا الیکشن کے نتائج آنے کے بعد سے ہی اس تبدیلی کی امید ظاہرکی جارہی تھی۔ مایاوتی نے اس تبدیلی میں سماجی ہم آہنگی کا کارڈ بھی کھیلا ہے۔ 

Loading...