உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Budget 2022: تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو نے مرکزی بجٹ کو مایوس کن اور بے سمت

    تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو نے منگل کو مرکزی بجٹ کو بے حد مایوس کن، بے سمت، بیکار اور بے مقصد قرار دیا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ایس سی، ایس ٹی، پسماندہ طبقات، اقلیتوں، کسانوں، عام آدمی، غریبوں، کاریگروں اور ملازمین کے لیے مکمل طور پر مایوس کن ہے۔

    تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو نے منگل کو مرکزی بجٹ کو بے حد مایوس کن، بے سمت، بیکار اور بے مقصد قرار دیا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ایس سی، ایس ٹی، پسماندہ طبقات، اقلیتوں، کسانوں، عام آدمی، غریبوں، کاریگروں اور ملازمین کے لیے مکمل طور پر مایوس کن ہے۔

    تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو نے منگل کو مرکزی بجٹ کو بے حد مایوس کن، بے سمت، بیکار اور بے مقصد قرار دیا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ایس سی، ایس ٹی، پسماندہ طبقات، اقلیتوں، کسانوں، عام آدمی، غریبوں، کاریگروں اور ملازمین کے لیے مکمل طور پر مایوس کن ہے۔

    • Share this:
      حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو نے منگل کو مرکزی بجٹ کو بے حد مایوس کن، بے سمت، بیکار اور بے مقصد قرار دیا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ایس سی، ایس ٹی، پسماندہ طبقات، اقلیتوں، کسانوں، عام آدمی، غریبوں، کاریگروں اور ملازمین کے لیے مکمل طور پر مایوس کن ہے۔ کے سی آر جو تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آر ایس) کے صدر بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سمت اور منشا کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ کا خطاب کھوکھلے پن اور الفاظ کی جگل بندی سے بھرا تھا۔

      وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بجٹ کے ذریعہ سے عام آدمی کو مایوسی میں ڈالتے ہوئے خود کی تعریف کی ہے۔ ٹی آر ایس لیڈر نے اسے ’گول مال بجٹ‘ بتاتے ہوئے کہا کہ اس نے حقائق کو پیش نہیں کیا۔ زرعی میدان کی فلاح وبہبود کے لئے مرکزی حکومت کے ذریعہ بجٹ میں اٹھائے گئے اقدامات صفر ہیں۔ انہوں نے بجٹ کو کسانوں اور ملک کے زرعی میدان کے لئے ایک بڑا صفر قرار دیا۔

      وزیر اعلیٰ نے کہا، ’بجٹ میں ہینڈلوم علاقے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ بجٹ نے ملازمین اور چھوٹے تاجروں کے درمیان کڑواہٹ چھوڑی ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ بجٹ میں ٹیکس سلیب میں تبدیلی نہیں کی گئی‘۔ یہ کہتے ہوئے کہ ملازم اور تاجر برادری دونوں ہی ٹیکس سلیب میں تبدیلی کی بے صبری سے انتظار کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ مرکز نے ان کی سبھی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

      چندر شیکھر راو نے کہا، ’بجٹ نے واضح طور سے دکھایا ہے کہ مرکز نے صحت عامہ، بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کو نظر انداز کیا ہے۔ پوری دنیا میں کورونا وبا کے دوران، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے علاقوں کی ترقی کی جارہی ہے، ہماری مرکزی حکومت نے ان طرز پر سوچا بھی نہیں ہے جو بدقسمتی والا ہے‘۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا کے پس منظر میں ملک میں طبی اور صحت کے شعبے کی ترقی کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی گئی۔ حیرت کی بات ہے کہ مرکزی حکومت کو صحت عامہ کی کوئی پرواہ نہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: