بلند شہراجتماعی آبروریز ی کیس : الہ آباد ہائی کورٹ تفتیش سے غیر مطمئن ، سی بی آئی جانچ کا حکم

الہ آباد ہائی کورٹ نے بلندشہر ضلع میں قومی شاہراہ نمبر 91 پر ماں بیٹی کی اجتماعی آبرو ریزی معاملے کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)سے کرانے کا حکم دیا ہے۔

Aug 12, 2016 06:13 PM IST | Updated on: Aug 12, 2016 06:13 PM IST
بلند شہراجتماعی آبروریز ی کیس : الہ آباد ہائی کورٹ تفتیش سے غیر مطمئن ، سی بی آئی جانچ کا حکم

الہ آباد : الہ آباد ہائی کورٹ نے بلندشہر ضلع میں قومی شاہراہ نمبر 91 پر ماں بیٹی کی اجتماعی آبرو ریزی معاملے کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)سے کرانے کا حکم دیا ہے۔ ہائی کورٹ حکومت کی جانب سے کرائی گئی ابھی تک کی تفتیش سے مطمئن نہیں ہے۔عدالت نے کہا ہے کہ اگرپولیس نے گزشتہ ماہ مئی میں اسی شاہراہ پر پیش آئے ایک دیگر واقعہ پر سنجیدگی سے کارروائی کی ہوتی تو ماں بیٹی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کا یہ وحشیانہ واقعہ پیش نہیں آتا۔ بلندشہر قومی شاہراہ اجتماعی آبروریزی معاملے کی سماعت کررہی چیف جسٹس ڈی بی بھوسلے اور جسٹس یشونت ورما کی بنچ نے آج یہ حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ قومی شاہراہ نمبر 91پر گزشتہ 30جولائی کو صبح باوریا گروہ کے بدمعاشوں نے نوئیڈا سے بدایوں جانے والی ایک کار میں سوار لوگوں کے ساتھ پہلے لوٹ مار کی اور پھر اس میں موجود ماں بیٹی کی اجتماعی آبرو ریزی کی۔متاثرین کو فوراً پولیس کی مدد دستیاب نہیں ہوئی ۔ہیڈکوارٹر فون کرنے پر پولیس حرکت میں آئی۔پولیس پر واقعہ کو دبانے کا بھی الزام لگایا گیا۔

اخبارات میں شائع خبروں پر خود کارروائی کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر بھوسلے نے مفاد عامہ کی عرضی پر قومی شاہراہ نمبر کی سکیورٹی اقدامات کی مانیٹرنگ کرنے کا حکم دیتے ہوئے واقعہ پر غور کے ساتھ مکمل صورت حال کی ایس پی سے رپورٹ طلب کی تھی۔سیل بند لفافے میں رپورٹ کو عدالت نے پولیس کو حلف نامے کے ساتھ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے ان حقائق پر غور کرتے ہوئے گزشتہ ایک سال میں قومی شاہراہ نمبر 91پر لوٹ اور عصمت دری کے واقعات اور اس پر ہوئی کارروائی کی رپورٹ طلب کی تھی۔عدالت نے قومی شاہراہ پر خواتین کے ساتھ ہورہے جرائم پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کے ذریعہ اسے روکنے کےلئے کیا کوشش کی جارہی ہے۔ عدالت نےکہا کہ الہ آباد کے ہنڈیا کے نزدیک قومی شاہراہ پر بدسلوکی کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔پولیس نے اس واقعہ پر کیا کارروائی کی ہے اس کی معلومات پیش کی جائے ۔معاملے کی سماعت 17اگست کو ہوگی۔

Loading...

اڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عمران اللہ خاں اور سرکاری وکیل اکھلیش سنگھ نے قومی شاہراہ نمبر 91 پربد سلوکی کے معاملے میں تفصیل پیش کرتے ہوئے رپورٹ سیل بند لفافے میں پیش کی تھی۔ساتھ ہی قومی شاہراہ نمبر 91پر پیش آنے والے عصمت دری کے دیگر معاملوں سے متعلق پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) نے ایک حلف نامہ بھی دائر کیا جس میں بتایا کہ واقعہ کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ملزمین کی تلاش کی جارہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 30جولائی سے پہلے بلندشہر میں قومی شاہراہ پر پیش آنے والے واقعہ لیو ان ریلیشن کے سلسلے میں تھے اور بدسلوکی کا الزام لگایا گیا ہے۔عدالت نے جاننا چاہا کہ اس میں چوٹوں کی رپورٹ ہے لیکن بدسلوکی کی میڈیکل رپورٹ نہیں ہے۔ عدالت نے بلند شہر میں ہی گزشتہ سات مئی اور 12مئی کی لوٹ اور بدسلوکی کے واقعہ پر ملزمین کی گرفتاری کےلئے کئے گئے اقدامات کی معلومات طلب کی ہے۔

عدالت نے کہا کہ اس واقعہ کی خبر اخبارات میں پولیس ذرائع سے شائع ہوئی ہے اورپولیس نےکارروائی نہیں کی ہے۔ کیا خبر شائع ہونے کے بعد ایف آئی آر درج کرکے کارروائی کرنا صحیح ہے۔؟ عدالت نے کہا کہ یک کے بعددیگرے خواتین کے خلاف جرائم ہورہے ہیں۔پولیس انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔اڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ واقعہ کے بعد بلند شہر کےکئی افسروں کا تبادلہ کردیا گیا ۔یہ واقعہ بے حد شرمناک ہے ۔حکومت سی بی آئی سے جانچ کے خلاف نہیں ہے لیکن پولیس صحیح طریقے سے غور کررہی ہے۔

سی بی آئی سے جانچ کرانے سے متعلق سوال پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا تھا کہ حکومت کو سی بی آئی جانچ سے پرہیز نہیں ہے لیکن اس جانچ سے عوام میں یہ پیغام جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کا جانچ ایجنسی پر بھروسہ نہیں ہے۔ عدالت نے بلند شہر کے قومی شاہراہ پر پیس آنے والے واقعہ کی سماعت کےلئے 17اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔

Loading...