உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bulli Bai app:پوچھ تاچھ شروع ہوتے ہی نیرج کا اعتراف جرم، کہا-مخصوص مذہب سے تھی شدید نفرت، کوئی پچھتاوا نہیں

    ’بلی بائی‘ (Bulli Bai) ایپ کے معاملے میں آسام سے گرفتار نیرج بشنوئی نے اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ پولیس پوچھ تاچھ میں اُس نے کئی راز کھولے ہیں۔ اس نے بتایا ہے کہ اُسے مخصوص مذہب سے شدید ناراضگی تھی اور وہ اُن خواتین کو ٹارگیٹ کرتا تھا جو سوشل میڈیا میں مخصوص مذہب یا مخصوص آئیڈیالاجی کو لے کر ایکٹیو رہتی تھیں۔

    ’بلی بائی‘ (Bulli Bai) ایپ کے معاملے میں آسام سے گرفتار نیرج بشنوئی نے اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ پولیس پوچھ تاچھ میں اُس نے کئی راز کھولے ہیں۔ اس نے بتایا ہے کہ اُسے مخصوص مذہب سے شدید ناراضگی تھی اور وہ اُن خواتین کو ٹارگیٹ کرتا تھا جو سوشل میڈیا میں مخصوص مذہب یا مخصوص آئیڈیالاجی کو لے کر ایکٹیو رہتی تھیں۔

    ’بلی بائی‘ (Bulli Bai) ایپ کے معاملے میں آسام سے گرفتار نیرج بشنوئی نے اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ پولیس پوچھ تاچھ میں اُس نے کئی راز کھولے ہیں۔ اس نے بتایا ہے کہ اُسے مخصوص مذہب سے شدید ناراضگی تھی اور وہ اُن خواتین کو ٹارگیٹ کرتا تھا جو سوشل میڈیا میں مخصوص مذہب یا مخصوص آئیڈیالاجی کو لے کر ایکٹیو رہتی تھیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سوشل میڈیا (Social Media) پر مسلم خواتین کو نشانہ بنانے والے ’بلی بائی‘ (Bulli Bai) ایپ کے معاملے میں آسام سے گرفتار نیرج بشنوئی نے اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ پولیس پوچھ تاچھ میں اُس نے کئی راز کھولے ہیں۔ اس نے بتایا ہے کہ اُسے مخصوص مذہب سے شدید ناراضگی تھی اور وہ اُن خواتین کو ٹارگیٹ کرتا تھا جو سوشل میڈیا میں مخصوص مذہب یا مخصوص آئیڈیالاجی کو لے کر ایکٹیو رہتی تھیں۔ اُس نے کہا کہ مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔

      IFSO یونٹ کے ڈی سی پی کے پی ایس ملہوترا کے مطابق ملزم نیرج بشنوئی کو آسام کے جورہاٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ کمپیونٹر سائنس سے بی ٹیک سیکنڈ ایئر کا طالبعلم ہے۔ نیرج نے یہ بتایا ہے کہ بلی بائی ایپ کا وہی کرئیٹر یعنی اسے بنانے والا ہے۔ پوچھ تاچھ میں نیرج نے بتایا کہ اُسی نے Github پر بلی بائی ایپ کو بنایا تھا۔ ساتھ ہی ٹوئٹر پر @bullibai_ اکاونٹ بھی اُسی نے بنایا تھا۔

      پوچھ تاچھ میں بتایا کہ github اکاونٹ ایپ نومبر 2021 میں ڈیولپ ہوا تھا اور دسمبر 2021 میں یہ ایپ اپ ڈیٹ ہوئی تھی۔ ساتھ ہی اس نے @sage0x1 نام سے ٹوئٹر اکاونٹ بھی بنایاتھا۔ نیرج نے یہقبول کیا ہے کہ وہ اس ایپ کے تعلق سے سوشل میڈیا پر آرہی خبروں پر نظر بنائے ہوئے تھا۔ اس نے ایک اور ٹوئٹر اکاونٹ @giyu44 بنایا اور اس سے ٹوئٹ کیا تھا کہ ممبئی پولیس نے غلط لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ دراصل اسی معاملے میں ممبئی پولیس نے بنگلورو اور اُتراکھنڈ سے گرفتاریاں کیں تھیں۔ اب ذرائع بتا رہے ہیں کہ ایسا ممکن ہے کہ یہ ملزمین آپس میں سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں رہتے ہوں۔ ایسی اطلاع بھی ملی ہے کہ اتراکھنڈ سے گرفتار کیے گئے ملزم نے اکاونٹ بنا کر نیرج کو دیا تھا جسے وہ ہینڈل کررہا تھا۔

      پولیس نے بتایا کہ 6 مہینے پہلے سُلّی ڈیلس والے کیس میں اب تک ان ملزمین کا کوئی رول سامنے نہیں آیا ہے۔ ان ملزمین تک پہنچنے کے لئے پولیس کو کافی محنت کرنی پڑی۔ اس معاملے میں github اور ٹوئٹر نے پولیس کی کوئی مدد نہیں کی۔ یہ گرفتاری ٹیکنیکل سرویلنس کے ذریعے انجام دی گئی۔ IFSO یونٹ اب پولیس کسٹڈی میں لے کر اس سے پوچھ تاچھ کرے گی تا کہ اس کا مقصد، منصوبے اور اگر کوئی اور ساتھی ہے اُس کا پتہ لگایا جاسکے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: