உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Kanpur News:ڈیزل ڈال کر کانٹریکٹر کو زندہ جلایا، جانچ میں برتی گئی انتہائی لاپرواہی

    کانپور میں کانٹریکٹر کو زندہ جلانے کا وحشیانہ واقعہ۔

    کانپور میں کانٹریکٹر کو زندہ جلانے کا وحشیانہ واقعہ۔

    ابتدائی فورنسک تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ استعمال ہونے والا آتش گیر مواد ڈیزل تھا۔ اب پولیس اس بات کا پتہ لگا رہی ہے کہ یہ ڈیزل کہاں سے اور کس نے لیا۔

    • Share this:
      کانپور: کانپور میں ٹھیکیدار راجندر پال کو زندہ جلانے کے معاملے میں قدم بہ قدم لاپرواہی برتی گئی۔ راجندر جلنے کے بعد تقریباً چار گھنٹے تک زندہ رہا۔ اس کے باوجود ان کا مجسٹریٹ بیان درج نہیں کرایا گیا۔ پولیس اہلکار نے بیانات کی ویڈیو بنائی، جسے مجسٹریٹ کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ اس سے کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ دستیاب ویڈیوز، بیانات بہت اہم اور کافی ہیں۔

      20 جولائی کی دوپہر کو بلڈر شیلیندر سریواستو نے منشی راگھویندر کے ساتھ مل کر ٹھیکیدار راجندر پال کو زندہ جلا دیا تھا، جو شیام نگر ڈی بلاک میں واجبات کا مطالبہ کرنے پہنچے تھے۔ یہ واقعہ رات 12:08 پر پیش آیا۔ اس کے بعد راجندر کو ارسلا اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ راجندر کی شام تقریباً 4.15 بجے موت ہو گئی۔
      اتنا وقت ملنے کے بعد بھی پولیس انتظامیہ نے لاپرواہی کی وجہ سے راجندر کا مجسٹریٹ بیان ریکارڈ نہیں کیا۔ دوسرے دن فورنسک جانچ کرائی گئی، جبکہ بارش میں پہلے ہی شواہد مٹ چکے تھے۔ اتنے بڑے واقعے میں پولیس انتظامیہ کے ذمہ دار افسران کی اس طرح کی لاپرواہی کی وجہ سے سوال اٹھ رہے ہیں۔

      وقت پر نہیں پہنچے تھے مجسٹریٹ
      ایک پولیس افسر نے بتایا کہ مجسٹریٹ کو واقعہ کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا، لیکن وہ راجندر کے زندہ ہونے تک نہیں پہنچے۔ چنانچہ پولیس نے خود ان کے بیانات قلمبند کرائے تھے۔ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو بیان کافی ہے۔ کیس پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      کون ہیں ارپتا مکھرجی، جن کے گھر سے ملے 20 کروڑ روپئے؟ ممتا بنرجی کے وزیر سے کیا ہے رشتہ؟

      یہ بھی پڑھیں:
      Uttar Pradesh: گھر کے باہر 3 مختلف زبانوں میں دھمکی آمیزخط موصول، پولیس نے شروع کی تحقیقات

      ڈیزل ڈال کر جلادیا گیا
      ابتدائی فورنسک تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ استعمال ہونے والا آتش گیر مواد ڈیزل تھا۔ اب پولیس اس بات کا پتہ لگا رہی ہے کہ یہ ڈیزل کہاں سے اور کس نے لیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: