ہندوستان کو آگے بڑھانے کی نوجوان کی طاقت

لوک سبھا انتخابات 2019 کا ساتواں اور آخری مرحلہ 19 مئی کو ہوگا۔ جالندھر، جو کہ پنجاب کا ایک انتخابی حلقہ ہے، وہ بقیہ پنجاب کے ساتھ میں اس دن ووٹ ڈالے گا۔

May 19, 2019 01:01 PM IST | Updated on: May 19, 2019 01:02 PM IST
ہندوستان کو آگے بڑھانے کی نوجوان کی طاقت

مہم بٹن دباؤ دیش بناؤ

لوک سبھا انتخابات 2019 کا ساتواں اور آخری مرحلہ 19 مئی کو ہوگا۔ جالندھر، جو کہ پنجاب کا ایک انتخابی حلقہ ہے، وہ بقیہ پنجاب کے ساتھ میں اس دن ووٹ ڈالے گا۔

آر پی – سنجیو گوینگا گروپ اور نیٹ ورک 18 نے ایک مشن لے رکھا ہے کہ وہ بھارتی شہریوں کو اس بات پر آمادہ کریں گے اور تعلیم دیں گے کہ وہ اس عام انتخابات میں اپنے قیمتی ووٹ ڈال کر ملک کے تئیں اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کریں۔ نیوز18 انڈیا کے جیوتی کمال جالندھر کی لولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) گئے، تاکہ وہ وہاںطلبہ سے ان کے ووٹ کی اہمیت کے بارے میں بات کریں۔

ایل پی یو ہندوستان کی سب سے بری واحد-کیمپس نجی نیورسٹی ہے، جہاں 30,000 سے زائد طلبہ پڑھتے ہیں۔ یہ نوجوان طاقتوں کواستعمال کرنے اور انھیں تحریک دینے کا ایک شاندار پلیٹ فارم ہے۔

جیوتی کمال نے ایل پی یو کے کیمپس میں نوجوانوں کو تعلیم دینے کی اپنی کوشش میں کچھ اہم اعداد وشمار کا انکشاف کیا ہے۔ ان کے معزز پینل میں ایل جی بی ٹی کارکن – دیپک رانا، نیتا ایپ کے معمار – پرتھم متل، یونی رلائی کی شریک بانی – شرستی متل اور ایل پی یو کے ایگزیکٹیو ڈین – سنجے مودی جیسے ماہرین تھے۔

Loading...

کچھ اہم اعدادوشمار

ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے

ہندوستان میں تقریباً 8 بلین ووٹ ڈالنے والے ہیں

تقریباً 3 بلین ووٹر عام انتخابات میں اپنا حق رائے دہی نہیں استعمال کرتے ہیں

آسانی پولنگ کی سہولت بہم پہنچانے کے لیے پورے بھارت میں 1 ملین سے زیادہ پولنگ بوتھ ہیں

بے روک ٹوک ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے پورے بھارت میں 4 ملین سے زائد عملہ اور سلامتی کارکنان کو مامور کیا جاتا ہے۔ یہ اعدادوشمار کچھ ملکوں کی مجوعی آبادی سے زیادہ ہے

بھارت میں تقریباً 4,90,000 مخنث ہیں۔ ان میں سے صرف 40,000کا ووٹرز کے طور پر رجسٹریشن ہے جوکہ مخنثوں کی مجموعی آبادی کے دس فیصد سے کم ہے.

سب سے زیادہ دلچسپی والی اور دلوں کو گرمانے والی سچائی اروناچل پردیش کی ہے۔ پانچ پولنگ افسران نے تقریباً 100 کلومیٹر کاسفر سڑک کے ذریعہ کیا اور پھر تقریباً 6 کلومیٹر پہاڑی پر پیدل چلے، تاکہ اروناچل پردیش، مالوگم، انجوا ضلع کی ایک تنہا عورت اپنا ووٹ ڈال سکے۔ پیغام بالکل واضح اور صاف ہے –ہر ایک ووٹ کی اہمیت ہے۔

ان میں سے کچھ اعدادوشمار آنکھ کھولنے والے تھے۔ طلبہ نے بھی مباحثہ میں فعال طور پر شرکت کی اور نوجوانوں کو ووٹنگ سے باز رکھنے والے کچھ مسائل پر بات کی۔

ووٹنگ کی وجوہات اور تصحیح کے لیے مشورے

طلبہ نے سب سے بنیادی وجہ یہ بتائی کہ وہ انتخاب کے وقت اپنے گھر سے دور رہتے ہیں اور انھیں اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے واپس گھر جانے میں پریشانی ہوتی ہے۔ یہ مشورہ دیا گیا کہ الیکشن کمیشن نےجس طرح سے اس نے غیررہائشی بھارتیوں کو بیرون ملک سے اپنا ووٹ ڈالنے کا اہل بنانے کے لیے پالیسی بنا رکھی ہےٹھیک اسی طرح سے وہ ایک پالیسی تشکیل دے جس سے مہاجر ووٹر اپنا ووٹ ڈال سکیں۔

ووٹروں کا رجسٹریشن کرانا ایک طویل اور اکتا دینے والا کام ہے۔ طویل فارموں کو پر کرنا ایک لمبا اور بیزارکن عمل ہے۔ اس سے بہتر ٹیکنالوجی کے سہارے غالباً نمٹا جا سکتا ہے۔

امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں پر لوگوں کو اعتماد نہیں ہے۔ یہاں پر، پرتھم متل نے انھیں نیتا ایپ استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کی ایپشہریوں کو اس بات میں مدد کرتی ہے کہ وہ سیاستدانوں کی درجہ بندی اور ان کا تنقیدی جائزہ لے کر اس تعلق سے ایک باخبر فیصلہ لے سکیں کہ کس امیدوار کی تائید کی جائے۔

بڑی سیاسی پارٹیوں کے بیچ مستقل تلخ کلامی اور تکرار ایک دوسری وجہ ہے کہ ان کے تعلق سے غلط فہمی دور نہیں ہو رہی ہے۔ طلبہ نے محسوس کیا کہ یہ صورت حال بالی ووڈ کی غیرمعیاری اسکرپٹ کی طرح ہے، اور انھوں نے 'گندی سیاست' کو ایک مکمل طور پر نیا معنی عطا کیا۔ یہ مشورہ دیا گیا کہ سیاسی امیدوار اور پارٹیاں باوقار انداز میں کام کریں اور ووٹ ڈالنے والی عوام اور نوجوانوں کی تائید کو حاصل کرنے کی خاطر انتخابات سے پہلے کیے گئے وعدے مکمل کریں۔

پرتھم متل نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ اس انتخاب میں نوجوان اور پہلی بار ووٹ ڈالنے والے ووٹروں کی تعداد 1.4 بلین ہے۔ یہ ایک بھاری تعداد ہے اور اگر ان میں سے سبھی اپنا ووٹ دانشمندی سے استعمال کریں، تو ان کے اندر اس انتخاب کے نتیجہ کو پھیرنے اور درست حکومت لانے کی طاقت موجود ہے۔

تیسری صنف

سال 2014 کے انتخابات میں، مخنثوں کو بجاطور پر تیسری صنف تسلیم کیا گیا۔ انھیں فعال سیاست کا ایک حصہ بننے اور اپنا ووٹ ڈالنے کا ایک موقع دیا گیا۔ ووٹ ان کے لیے ہماری جمہوریت کے ایک مکمل حصے کے طور پر خود کو اظہار کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ دکھ کی بات ہے کہ، بھارت کے 4,90,000 مخنث افراد میں سے 10٪ سے کم کا ووٹرز کے طور پر رجسٹریشن ہے۔

دیپک رانا، جو کہ ایل جی بی ٹی حقوق کارکن ہیں، انھوں نے اس کی وجہ کی نشاندہی کی۔ مخنثوں کو ابھی بھی بھارت میں کھلے دل سے اور بڑے پیمانے پر قبول نہیں کیا گیا ہے۔ ابھی بھی لوگ ان سے بچتے اور ان کی بے قدری کرتے ہیں۔ اس طرح سے، ان کی سماجی حیثیت ہی کی طرح، مخنث برادری کا احساس ہے کہ ان کے ووٹ بھی غیراہم اور بیکار ہیں۔

ہندوستان کے جوانوں پر ملک کے تئیں ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ ان کا انفرادی ووٹ انتہائی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اجتماعی طور پر، ان کے ووٹ میں حکومت کو بنانے یا توڑنے کی طاقت موجود ہے۔ اگرچہ ان کے ذریعہ حمایت کیا گیا امیدوار انتخاب نہ جیتے، لیکن ان کا ووٹ امیدوار کو اس بات پر مجبور کرے گا کہ وہ ہار پر غوروفکر کرے اور آئندہ انتخاب سے پہلے خود کو بہتر اور پہلے کے مقابلے میں اچھا بنائے۔

نوجوان کا ووٹ ملک کی بنیادی دیوار میں اس اہم ترین اینٹ کی مانند ہے۔ اینٹ کے اضافے سے دیوار کو مضبوطی ملے گی، جبکہ اس کو ہٹانے سے دیوار لازمی طور پر گر جائے گی۔ اسی لیے، ووٹ ڈالیں۔

پنجاب کا جالندھر انتخابی حلقہ19 مئی 2019 کو ووٹ ڈالے گا۔ جالندھر کے اندر 2014 میں کل 67.08٪ لوگوں نے ووٹ ڈالا تھا۔ امید ہے کہ، نیٹ ورک 18 کی معیت میں آر پی-سنجیو گوینکا گروپ کی کوشش، سے لوک سبھا انتخابات 2019 میں یہ فیصد کافی زیادہ ہو جائے گا۔

بٹن دباؤ، دیش بناؤ نیٹ ورک 18 کی ایک پہل ہے، اسے آر پی-سنجیو گوینکا گروپ کے ذریعہ پیش کیا جارہا ہے، یہ پہل ہر بھارتی کو جاری عام انتخابات میںووٹڈالنے کی ترغیب دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ بٹن دباؤ، دیش بناؤ استعمال کرکے اس تعلق سے بات چیت کو فالو کریں۔

Loading...