اپنا ضلع منتخب کریں۔

    CAA معاملے پر اب 6 دسمبر کو ہوگی سماعت، مرکزی حکومت کو سپریم کورٹ نے جواب داخل کرنے کا دیا وقت

    Youtube Video

    سی جے آئی 7 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ سی جے آئی نے حکومت کو آسام اور تریپورہ کے سلسلے میں دائر درخواستوں پر اپنا جواب داخل کرنے کا وقت دیا ہے۔ دو تین کیسز کو مین کیس کے طور پر سنا جائے گا تاکہ معاملے کو آسانی سے سنا جاسکے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      سپریم کورٹ اب 6 دسمبر کو شہریت ترمیمی قانون پر سماعت کرے گا۔ سی جے آئی نے سی اے اے معاملے کو 6 دسمبر کو مناسب بنچ کے سامنے درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ سی جے آئی 7 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ سی جے آئی نے حکومت کو آسام اور تریپورہ کے سلسلے میں دائر درخواستوں پر اپنا جواب داخل کرنے کا وقت دیا ہے۔ دو تین کیسز کو مین کیس کے طور پر سنا جائے گا تاکہ معاملے کو آسانی سے سنا جاسکے۔ اس سے پہلے سالیسٹر جنرل نے کہا کہ کل 232 درخواستیں ہیں۔ مرکز نے جواب داخل کیا ہے اور ہمیں آسام اور تریپورہ کی جانب سے جواب داخل کرنے کے لیے کچھ وقت چاہئے ۔ سی جی آئی نے کہا کہ یہ مطالبہ آخری وقت میں بھی کیا گیا تھا۔
      تاہم، اتوار کو، مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ سی اے اے کو چیلنج کرنے والی تمام درخواستوں کو خارج کر دے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے۔ بلکہ یہ ایک واضح قانون ہے جو صرف چھ مخصوص کمیونٹی کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت دیتا ہے جو 31 دسمبر 2014 کو یا اس سے پہلے آسام سمیت ملک میں آئے تھے۔ اس قانون سے مستقبل میں بھی غیر ملکیوں کے ملک میں داخل ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

      وراٹ کوہلی کے کمرے میں گھسا انجان شخص، بنالیا ویڈیو تو پرائیویوسی کو لیکر بھڑکے کنگ کوہلی

      کیا لوگوں کے ہلانے سے گرا موربی کا کیبل سسپینشن پل؟ جانئے وائرل ویڈیو کی سچائی

      چیف جسٹس ادے امیش للت، جسٹس ایس. رویندر بھٹ اور جسٹس بیلا ایم ترویدی کی بنچ کے سامنے سی اے اے کے معاملے پر صرف 31 اکتوبر کو سماعت کے لیے 232 درخواستیں درج ہیں۔ جن میں زیادہ تر مفاد عامہ کی عرضیاں ہیں۔ اس سے پہلے جسٹس للت کی سربراہی والی بنچ نے کہا تھا کہ سی اے اے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو تین ججوں کی بنچ کے پاس بھیجا جائے گا۔ اس معاملے پر مرکزی درخواست انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) نے دائر کی تھی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: