ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

مغربی بنگال میں پھر سی اے اے کی گونج، کیلاش وجے ورگیہ نے کہا- جنوری سے شروع ہوجائے گا پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا کام

West Bengal Elections 2021: مغربی بنگال کے شمال 24 پرگنہ ضلع میں ’آر نائے انیائے (ناانصافی اور نہیں)’ مہم کے دوران کیلاش وجے ورگیہ نے صحافیوں سے کہا، ’ہمیں امید ہے کہ سی اے اے کے تحت پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا عمل اگلے سال جنوری سے شروع ہوجائے گی’۔

  • Share this:
مغربی بنگال میں پھر سی اے اے کی گونج، کیلاش وجے ورگیہ نے کہا- جنوری سے شروع ہوجائے گا پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا کام
مغربی بنگال میں پھر سی اے اے کی گونج، کیلاش وجے ورگیہ نے کہا- جنوری سے شروع ہوجائے گا پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا کام

باراسات (مغربی بنگال) بی جے پی کے سینئر لیڈر کیلاش وجے ورگیہ (Kailash Vijayvargiya) نے ہفتہ کو کہا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اگلے سال جنوری سے نافذ ہو سکتا ہے۔ بی جے پی قومی جنرل سکریٹری نے ساتھ ہی الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس کی حکومت پناہ گزینوں کے تئیں ہمدردی نہیں رکھتی ہے۔ شمال 24 پرگنہ ضلع میں ’آر نوئے انیائے’  (ناانصافی اور نہیں) مہم کے تحت انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا، ’ہمیں امید ہے کہ سی اے اے (CAA) کے تحت پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا عمل آئندہ سال جنوری سے شروع ہوجائے گا’۔ انہوں نے کہا، ’مرکزی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون کو ایماندار نیت سے پڑوسی ممالک سے ہمارے ملک آئے ستائے گئے پناہ گزینوں کو شہریت دینے کے لئے منظور کیا تھا’۔




بی جے پی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ کے تبصرہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے لیڈر اور ریاستی وزیر فرہاد حکیم نے کہا کہ بی جے پی مغربی بنگال کے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سی اے اے میں پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے 31 دسمبر 2014 سے پہلے ہندوستان آگئے ہندو، سکھ، بودھ، عیسائی، جین اور پارسی پناہ گزینوں کو ہندوستان کی شہریت دینے کا التزام ہے۔

دوسری جانب مغربی بنگال بی جے پی کے نائب صددر اور بیرک پور کے رکن پارلیمنٹ ارجن سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ترنمول کانگریس کے لیڈر شوبھندو ادھیکاری اگر بی جے پی میں شامل ہوتے ہیں تو الیکشن سے قبل ہی بنگال کی ممتا حکومت گر جائے گی۔ انہوں نے اس سے پہلے بھی اس طرح کا دعویٰ کیا تھا کہ ترنمول کانگریس کے پانچ اراکین پارلیمنٹ کسی بھی وقت پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’اگر شوبھندو ادھیکاری بی جے پی میں شامل ہوتے ہیں تو مغربی بنگال کی ممتا حکومت الیکشن سے پہلے ہی گرجائے گی۔ مجھے لگتا ہے کہ شوبھندو ادھیکاری کے پارٹی چھوڑنے کے بعد کئی اور لیڈر بھی حکومت سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیں گے’۔



مغربی بنگال میں آئندہ سال کے آغاز میں اسمبلی انتخابات کے الیکشن ہونے ہیں۔ ایسے میں سبھی کی نظریں ترنمول کانگریس کے قدآور لیڈر شوبھندو ادھیکاری کے اگلے قدم پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے کچھ دن پہلے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ شوبھندو ادھیکاری ممتا حکومت میں وزیر ٹرانسپورٹ کے عہدے پر فائز تھے۔ ٹی ایم سی لیڈر شوبھندو ادھیکاری کے بارے میں خبر ہے کہ وہ جلد ہی بی جے پی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ ٹی ایم سی کے لیڈروں کو مکمل یقین ہے کہ شوبھندو پارٹی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 06, 2020 12:37 PM IST