ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

دربھنگہ میں نتیش کمار کو مخالفت کا سامنا ، سینکڑوں کالے غبارے دکھائے گئے ، یہ تھی اصل وجہ

دربھنگہ میں آج بہار کے پہلے اقلیتی رہائشی اسکول کا سنگ بنیاد وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ہاتھوں رکھا گیا ۔ 54 کروڑ 43 لاکھ کے خرچ سے کیوٹی کے اسراہا گاؤں میں ریاست کا پہلا اقلیتی رہائشی اسکول قائم ہوگا ۔

  • Share this:
دربھنگہ میں نتیش کمار کو مخالفت کا سامنا ، سینکڑوں کالے غبارے دکھائے گئے ، یہ تھی اصل وجہ
دربھنگہ میں نتیش کمار کو مخالفت کا سامنا ، سینکڑوں کالے غبارے دکھائے گئے ، یہ تھی اصل وجہ

دربھنگہ کے لال باغ میں سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کے خلاف لگاتار ایک مہینہ سات دن سے خواتین کا احتجاج جاری ہے ۔ خواتین کے مطالبہ کے تعلق سے نتیش کمار کی جانب سے کوئی پہل اب تک نہیں کی گئی ہے ۔ آل انڈیا مسلم بیداری کارواں نے اس کے خلاف نتیش کمار پر سخت تنقید کیا ہے ۔ آج وزیر اعلیٰ دربھنگہ میں اقلیتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے پہنچے ، تبھی مسلم بیداری کارواں کے زیر اہتمام وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا کالے غباروں کے ساتھ احتجاج کیا گیا ۔


دراصل دربھنگہ میں آج بہار کے پہلے اقلیتی رہائشی اسکول کا سنگ بنیاد وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ہاتھوں رکھا گیا ۔ 54  کروڑ 43 لاکھ کے خرچ سے کیوٹی کے اسراہا گاؤں میں ریاست کا پہلا اقلیتی رہائشی اسکول قائم ہوگا ۔ وہیں دربھنگہ شہر میں پہلا وقف بھون ، ملٹی پرپس ہال کے نام سے بنایا جائےگا ، جس پر حکومت نو کروڑ 97 لاکھ روپے خرچ کرے گی ۔ علاوہ ازیں اقلیتی فلاح کے منصوبوں سے اقلیتوں کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ۔ جے ڈی یو لیڈر علی اشرف فاطمی سمیت پٹنہ سے جے ڈی یو کے درجنوں مسلم لیڈران دربھنگہ کے پروگرام کا حصہ بنے۔


دربھنگہ اقلیتی ضلع ہے اور سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کے خلاف شہر سے لے کر گاؤں تک میں احتجاج جاری ہے ۔ احتجاج کر رہے لوگ حکومت سے اس لئے ناراض ہیں کہ اب تک ان کے مطالبات کے سلسلے میں ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی واضح بات نہیں کی جاسکی ہے ۔ یہ سال بہار کا انتخابی سال ہے ، ایسے میں اقلیتوں کو خوش کرنے کے لئے اقلیتی اسکیموں کے نفاذ کی بات کی جارہی ہے اور اقلیتوں کے فلاحی منصوبوں کو شروع کرنے کا اعلان کیا جارہا ہے ۔


دربھنگہ میں لال باغ میں احتجاج کررہے لوگوں نے نتیش گو بیک کا نعرہ لگایا ۔ ان کے ہاتھوں میں کالے غبارے تھے ، جس کو ہوا میں اڑا کر نتیش کمار کے دربھنگہ آنے پر بائیکاٹ کیا گیا۔ احتجاج کر رہے لوگوں نے نو سی اے اے ، نو این پی آر اور نو این آر سی کا پوسٹر بھی لگایا۔ مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظر عالم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ این پی آر اور این آر سی کے خلاف اسمبلی میں حکومت قرارداد پاس کرے ، نہیں تو یہ احتجاج مزید تیز کیا جائے گا ۔
First published: Feb 23, 2020 10:44 PM IST