உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شہریت ترمیمی قانون کے ضوابط بنانے کے لئے وزارت داخلہ نے مانگا 6 ماہ کا وقت

    تینوں ممالک میں مذہبی استحصال کو بنیاد بناتے ہوئے ہندوستان میں 31 دسمبر 2014 تک آنے والے ہندو، پارسی، سکھ، عیسائی، جین اور بودھ طبقے کے لوگوں کو غیر قانونی تارکین وطن نہیں مانا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہیں قانون کے التزام کے تحت ہندوستان کی شہریت (Indian Citizenship) حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

    تینوں ممالک میں مذہبی استحصال کو بنیاد بناتے ہوئے ہندوستان میں 31 دسمبر 2014 تک آنے والے ہندو، پارسی، سکھ، عیسائی، جین اور بودھ طبقے کے لوگوں کو غیر قانونی تارکین وطن نہیں مانا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہیں قانون کے التزام کے تحت ہندوستان کی شہریت (Indian Citizenship) حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: وزارت داخلہ (Ministry of Home Affairs) نے شہریت ترمیمی قانون (Citizenship Amendment Act) کے ضوابط بنانے کے لئے 6 ماہ کا وقت طلب کیا ہے۔ وزارت داخلہ نے منگل کو پارلیمنٹ کو اس بات کی اطلاع دی ہے۔ وزارت داخلہ نے راجیہ سبھا اور لوک سبھا کی کمیٹیوں سے 9 جنوری تک وقت بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سی اے اے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں اقلیتوں اور تشدد کا شکار ہوئے ہندو، پارسی، سکھ، عیسائی، جین اور بودھ طبقے کو ہندوستانی شہریت حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

      کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے پوچھا تھا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے ضوابط کو نوٹیفکیشن کرنے کی آخری تاریخ طے ہوئی ہے یا نہیں۔ انہوں نے تاریخ طے نہ ہونے کی صورتحال میں وزارت سے وجہ بھی دریافت کیا تھا۔ اس پر وزیر مملکت برائے داخلہ امور نتیا نند رائے نے کہا کہ سی اے اے کو 12 دسمبر 2019 کو نوٹیفائی کیا گیا تھا اور یہ 10 جنوری 2010 کو موثر ہوگیا تھا۔

      مرکزی حکومت کی جانب سے سی اے اے قانون کو منظوری دیئے جانے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تھا۔
      مرکزی حکومت کی جانب سے سی اے اے قانون کو منظوری دیئے جانے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تھا۔


      اپنے جواب میں نتیا نند رائے نے کہا، ’شہریت ترمیمی قانون، 2019 کے ضوابط کو طے کرنے کے لئے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کمیٹیوں سے مدت 09.01.2022 تک بڑھانے کی اپیل کی گئی ہے‘۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے اس قانون پر 12 دسمبر 2019 کو رضا مندی کا اظہار کیا تھا۔ سی اے اے کے سامنے آنے کے بعد بڑے پیمانے پر اس کی مخالفت کی گئی تھی۔ ملک کے کئی اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے قانون کو نافذ کئے جانے کی مخالفت کی تھی۔

       کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے پوچھا تھا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے ضوابط کو نوٹیفکیشن کرنے کی آخری تاریخ طے ہوئی ہے یا نہیں۔

      کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے پوچھا تھا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے ضوابط کو نوٹیفکیشن کرنے کی آخری تاریخ طے ہوئی ہے یا نہیں۔


      تینوں ممالک میں مذہبی استحصال کو بنیاد بناتے ہوئے ہندوستان میں 31 دسمبر 2014 تک آنے والے ہندو، پارسی، سکھ، عیسائی، جین اور بودھ طبقے کے لوگوں کو غیر قانونی تارکین وطن نہیں مانا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہیں قانون کے التزام کے تحت ہندوستان کی شہریت حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ اگر ان ممالک اور ان طبقات کے لوگوں کے پاس والدین کی جائے پیدائش کا سرٹیفکیٹ نہیں ہے تو وہ ہندوستان میں 6 سال رہنے کے بعد شہریت کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: