உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Big Breaking: یوگی حکومت نے ’لو جہاد’ قانون پر لگائی مہر، 10 سال تک کی سزا کا التزام

    یوگی حکومت نے ’لو جہاد’ قانون پر لگائی مہر، 10 سال تک کی سزا کا التزام

    یوگی حکومت نے ’لو جہاد’ قانون پر لگائی مہر، 10 سال تک کی سزا کا التزام

    ایک اہم فیصلے میں الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) نے کہا کہ محض شادی کے لئے مذہب تبدیلی قانونی نہیں ہے۔

    • Share this:
      لکھنو: ملک کی دوسری ریاستوں کی طرح اترپردیش میں بھی ’لو جہاد’ (Love Jihad) کے خلاف قانون لانے پر یوگی حکومت (Yogi Government) نے حتمی مہر لگا دی ہے۔ اترپردیش کابینہ نے شادی کے لئے غیر قانونی مذہب تبدیلی مخالف قانون کے التزام کو منگل کو منظوری دے دی۔ ریاستی حکومت کے ترجمان سدھارتھ ناتھ سنگھ نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں ہوئی ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں شادی کے لئے دھوکہ دہی کئے جانے کے حادثات پر روک لگانے سے متعلق قانون کے تجاویز کو منظوری دے دی ہے۔ کابینہ میں تجویز پاس ہونے کے بعد 15-50 ہزار تک کا جرمانہ کا التزام ہے۔ وہیں شادی کے نام پر مذہب تبدیلی کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔ اگر کوئی بھی گروپ مذہب تبدیلی کراتا ہے تو اسے 3 سے 10 سال کی سزا ہوگی۔

      50 ہزار روپئے تک کا جرمانہ

      دوسری جانب، کوئی مذہبی رہنما مذہبی تبدیلی کراتا ہے تو اسے ڈی ایم سے اجازت لینی ہوگی۔ قانون کے تحت جو مذہب تبدیلی کرے گا، اسے بھی ضلع افسر سے اجازت لینی ہوگی۔ اگر کوئی اجتماعی طور پر مذہب تبدیلی کراتا ہے تو اسے 10 سال کی سزا اور 50 ہزار روپئے کا جرمانہ دینا ہوگا۔ اگر ایسا کرنے والی کوئی تنظیم ہے تو اس کی منظوری منسوخ ہوسکتی ہے۔ اس کے خلاف تعزیرات ہند کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گزشتہ دنوں مبینہ ’لو جہاد’ کے خلاف قانون بنانے کا اعلان کیا تھا۔ دراصل، پہلے اسٹیٹ لا کمیشن نے اپنی بھاری بھرکم رپورٹ وزیراعلیٰ کو سونپی تھی، جس کے بعد یوپی کے محکمہ داخلہ نے باقاعدہ اس کا فارمیٹ تیار کرکے محکمہ انصاف وقانون سے اجازت لی۔



      5 سے 10 سال کی سزا کا التزام

      اطلاعات کے مطابق، جو تجویز تیار کی گئی ہے، اس میں اس قانون کے بننے کے بعد اس کے تحت جرم کرنے والوں کو 5 سے 10 سال کی سزا کا التزام ہے۔ ساتھ ہی شادی کے نام پر مذہب تبدیلی بھی نہیں کی جاسکے گی۔ یہی نہیں شادی کرانے والے مولانا یا پنڈت کو اس مذہب کا پورا علم ہونا چاہئے۔ قانون کے مطابق، مذہب تبدیلی کے نام پر اب کسی بھی خاتون یا لڑکی کا استحصال نہیں ہوسکے گا اور ایسا کرنے والے سیدھے سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔

      واضح رہے کہ یوپی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے دوران جونپور ضلع میں ایک عوامی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ شادی کے لئے مذہب تبدیلی ضروری نہیں ہے۔ اس کو منظوری نہیں ملنی چاہئے۔ اس لئے حکومت بھی فیصلہ لے رہی ہے کہ ہم لو جہاد کو سختی سے روکنے کا کام کریں گے۔ ایک موثر قانون بنائیں گے۔ اس ملک میں چوری - چھپے نام اور مذہب چھپاکر جو لوگ بہن بیٹیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں، ان کو پہلے سے میری وارننگ ہے۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: