உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان میں Semiconductor Manufacturing کے لیے کابینہ میں ہوگی 76,000 کروڑ کی اسکیم ہوسکتی ہےمنظور

    عالمی سیمی کنڈکٹر کی کمی نے ایک سال سے زیادہ عرصے سے بہت سی صنعتوں کو متاثر کیا ہے۔

    عالمی سیمی کنڈکٹر کی کمی نے ایک سال سے زیادہ عرصے سے بہت سی صنعتوں کو متاثر کیا ہے۔

    مجوزہ اسکیم میں بڑی رقم کے ساتھ سرمایہ کاری کا تصور کیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت چھ سال میں ہندوستان میں 20 سے زیادہ سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، پرزوں کی تیاری اور ڈسپلے فیبریکیشن (فیب) یونٹس قائم کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔

    • Share this:
      ذرائع نے نیوز 18 ڈاٹ کام کو بتایا کہ مرکزی کابینہ بدھ کو ملک میں سیمی کنڈکٹرز (Semiconductor) کی تیاری کو آگے بڑھانے کے لیے  بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گی۔ اسی لیے اس کی پیداوار میں اضافہ کے لیے ایک بڑی اسیکم کو منظوری دے گی۔ مرکزی کابینہ میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے لیے 76,000 کروڑ روپے کی ایک بڑی اسیکم کو آج منظور کیا جاسکتا ہے۔

      اس مراعات پر تین طریقوں سے عمل ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ اس اسکیم میں کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر ویفر فیبریکیشن (Fab)، اسمبلی، ٹیسٹنگ اور پیکیجنگ کی سہولت کے یونٹ کے قیام کے لیے سرمائے کے اخراجات پر 25 فیصد مراعات کی فراہمی شامل ہوگی۔ اس میں سیمی کنڈکٹرز کے ڈیزائن کی ترقی اور اسٹارٹ اپس کے لیے مراعات بھی شامل ہوں گی۔

      مجوزہ اسکیم میں بڑی رقم کے ساتھ سرمایہ کاری کا تصور کیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت چھ سال میں ہندوستان میں 20 سے زیادہ سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، پرزوں کی تیاری اور ڈسپلے فیبریکیشن (Fab) یونٹس قائم کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔ کابینہ کی جانب سے اسکیم کو منظوری دینے کے بعد وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) تفصیلات پر کام کرے گی۔ اس میگا ترغیب کے ساتھ حکومت اعلیٰ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچررز جیسے کہ Mediatek، Intel، Qualcom، Samsung اور Texas Instruments کو راغب کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر چپس کی کمی نے کئی شعبوں میں صنعتوں کی پیداوار کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔

      مرکز کے پاس سیمی کنڈکٹر ڈسپلے کے لیے دو فیب یونٹس اور اجزا کی ڈیزائننگ اور مینوفیکچرنگ کے لیے 10 یونٹس قائم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے یہ انتہائی ضروری ترغیب ہندوستان کو الیکٹرانکس کا مرکز بننے میں مدد دے سکتی ہے، خاص طور پر عالمی سیمی کنڈکٹر کی کمی کے جاری بحران کے درمیان یہ مزید اہمیت کی حامل بن جاتی ہے۔

      رپورٹس کے مطابق حکومت سرمائے کے اخراجات بعض اجزا پر ٹیرف میں کمی اور پروگراموں کے ذریعے فوائد پر مالی مدد بھی فراہم کرے گی۔ اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس، کاروں اور دیگر آلات سمیت مختلف قسم کے الیکٹرانک آلات کی تیاری میں سیمی کنڈکٹرز استعمال ہونے والے اہم اجزا ہیں۔ عالمی سیمی کنڈکٹر کی کمی نے ایک سال سے زیادہ عرصے سے بہت سی صنعتوں کو متاثر کیا ہے۔ اس کمی نے اسمارٹ فونز، پرسنل کمپیوٹرز، گیم کنسولز، آٹوموبائلز اور طبی آلات کو متاثر کیا ہے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: