உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کلکتہ ہائی کورٹ نے آلو رانی کو مانا بنگلہ دیشی شہری، ممتا بنرجی کی پارٹی سے لڑچکی ہیں اسمبلی الیکشن

    کلکتہ ہائی کورٹ کے جج وویک چودھری نے اپنے حکم میں کہا تھا، ’آلو رانی سرکار کے پاس بنگلہ دیش کا ووٹر آئی ڈی کارڈ ہے۔ ان کی شادی بنگلہ دیشی شہری سے ہوئی ہے، جو انہیں وہاں کا شہری ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ شہریت ایکٹ، 1955 کے التزام کے مطابق، انہوں نے ہندوستان کی شہریت کبھی حاصل نہیں کی۔

    کلکتہ ہائی کورٹ کے جج وویک چودھری نے اپنے حکم میں کہا تھا، ’آلو رانی سرکار کے پاس بنگلہ دیش کا ووٹر آئی ڈی کارڈ ہے۔ ان کی شادی بنگلہ دیشی شہری سے ہوئی ہے، جو انہیں وہاں کا شہری ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ شہریت ایکٹ، 1955 کے التزام کے مطابق، انہوں نے ہندوستان کی شہریت کبھی حاصل نہیں کی۔

    کلکتہ ہائی کورٹ کے جج وویک چودھری نے اپنے حکم میں کہا تھا، ’آلو رانی سرکار کے پاس بنگلہ دیش کا ووٹر آئی ڈی کارڈ ہے۔ ان کی شادی بنگلہ دیشی شہری سے ہوئی ہے، جو انہیں وہاں کا شہری ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ شہریت ایکٹ، 1955 کے التزام کے مطابق، انہوں نے ہندوستان کی شہریت کبھی حاصل نہیں کی۔

    • Share this:
      کولکاتا: مغربی بنگال میں گزشتہ سال ہوئے اسمبلی انتخابات مین بنگاوں جنوب انتخابی حلقہ سے ترنمول کانگریس کی ٹکٹ پر قسمت آزمانے والی امیدوار آلو رانی سرکار نے ہفتہ کے روز دعویٰ کیا کہ وہ 1969 میں ہندوستان میں (سرکار کے مطابق، ان کی پیدائش 22 مارچ، 1969 کو مغربی بنگال کے ہگلی ضلع کے بیدھ بتی میں ہوئی تھی) پیدا ہوئی تھیں اور بنگلہ دیش میں ان کی آبائی جائیداد ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے آلو رانی کو بنگلہ دیشی شہری مانا ہے۔

      نیوز ایجنسی اے این آئی سے ہوئی بات چیت میں آلو رانی سرکار نے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر نا اتفاقی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ سنگل بنچ کے فیصلے سے میں مطمئن نہیں ہوں، ڈویژن بینچ میں اسے چیلنج دوں گی۔ عدالت نے بن گاوں سیٹ پر بی جے پی امیدوار سوپن مجومدار کی جیت کو چیلنج دینے والی آلو رانی کی عرضی خارج کرتے ہوئے ان کے بنگلہ دیشی ہونے کا فیصلہ سنایا تھا۔

      جسٹس وویک چودھری نے اپنے 20 مئی کے حکم میں کہا تھا، ’آلو رانی سرکار نے پاسپورٹ، ووٹر آئی ڈی کارڈ، پین کارڈ اور آدھار کارڈ کی بنیاد پر ہندوستانی شہری ہونے کا دعویٰ کیا تھا، جو ہندوستان کی شہریت ثابت کرنے والے دستاویز نہیں ہیں‘۔



      کلکتہ ہائی کورٹ کے جج وویک چودھری نے اپنے حکم میں کہا تھا، ’آلو رانی سرکار کے پاس بنگلہ دیش کا ووٹر آئی ڈی کارڈ ہے۔ ان کی شادی بنگلہ دیشی شہری سے ہوئی ہے، جو انہیں وہاں کا شہری ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ شہریت ایکٹ، 1955 کے التزام کے مطابق، انہوں نے ہندوستان کی شہریت کبھی حاصل نہیں کی۔ آج بھی یہ واضح نہیں ہے کہ بنگلہ دیش کی ووٹر لسٹ سے ان کا نام ہٹا یا نہیں۔ ان کی ماں اور بھائی آج بھی بنگلہ دیش میں رہتے ہیں۔ ہندوستان میں دوہری شہریت کا التزام نہیں ہے، لہٰذا انہیں ہندوستانی شہری نہیں مانا جاسکتا‘۔

      آلو رانی سرکار نے 1955 کی شہریت ایکٹ کے تحت پیدائش سے ہندوستانی شہری ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ جانچ میں سامنے آیا کہ آلو رانی کے والد سمر ہلدر بنگلہ دیش کے نچرآباد کے رہنے والے تھے اور ان کی پیدائش بھی یہیں ہوئی۔ ہگلی میں پیدائش کا ان کا دعویٰ جھوٹا پایا گیا۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس وویک چودھری کو ٹی ایم سی لیڈر کی پیدائش کی تاریخ میں بھی کافی گڑبڑی دیکھنے کو ملی۔ یہ تضاد بنگلہ دیشی اور ہندوستانی دونوں دستاویزات میں دیکھا گیا۔ ہندوستانی آدھار کارڈ اور پین کارڈ پر ان کی تاریخ پیدائش، 22 مارچ، 1969 درج ہے، جبکہ بنگلہ دیش میں جاری ووٹر شناختی کارڈ (این آئی سی) پر ان کی تاریخ پیدائش  15 جنوری، 1967 درج ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: