ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ دھرنے میں شریک نوزائیدہ کی موت پرسپریم کورٹ برہم ، کہی یہ بڑی بات

عدالت نے ریمارکس کیے کہ چار ماہ کا بچہ احتجاج کرنے گیا تھا؟۔ اس معاملے میں اس کی والدہ کی کوتاہی کیوں کو نہیں نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔

  • Share this:
شاہین باغ دھرنے میں شریک نوزائیدہ کی موت پرسپریم کورٹ برہم ، کہی یہ بڑی  بات
فائل فوٹو

شاہین باغ میں جاری دھرنے میں شرکت کے بعد ماہ کے نوزائیدہ بچے کی موت کے معاملہ پر سپریم کورٹ نے پیر کو سماعت کی۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے ایک تبصرہ کرتے ہوئے پوچھا کہ حکومت اس بچے کی موت کے لئے کس طرح ذمہ دار ہے؟۔ عدالت نے وکیل کی سرزنش بھی کی۔عدالت نے ریمارکس کیے کہ چار ماہ کا بچہ احتجاج کرنے گیا تھا؟۔ اس معاملے میں اس کی والدہ کی کوتاہی کیوں کو نہیں نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ جو اس چھوٹے سے بچے کو بے حسی کے ساتھ مظاہرے میں لیکر گئی تھیں۔ اس کے بعد ، عدالت نے دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کو چار ہفتوں میں جواب دینے کے لیے کہا۔اس سلسلہ میں کورٹ نے ایک نوٹس بھی جاری کردیاہے۔



اس افسوسنا ک واقعہ پر ، عدالت عظمیٰ نے ممبئی کےبہادری ایوارڈ یافتہ کے ذریعہ لکھے گئے خط کی بنیاد پراس معاملہ کاازخود نوٹ لیتے ہوئے سماعت کا آغاز کیا۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی سربراہی میں بنچ نے آج مظاہروں میں بچوں اور نوجوانوں کی شرکت کو روکنے کے معاملے کی سماعت کی۔ بہادری ایوارڈ یافتہ ، 12 سالہ جین گنارٹن سداورتے (Zen Gunratan Sadavarte)نے ممبئی سے چیف جسٹس بوبڈے کو ایک خط لکھا۔

یہ بھی پڑھیں :شاہین باغ احتجاج: ماں کے ساتھ روز آتا تھا یہ معصوم، ٹھنڈ نے لے لی جان، لوگ اس کے چہرے پر بناتے تھے ترنگا
First published: Feb 10, 2020 02:53 PM IST