உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کام کی بات : کیا کسی کو دیکھ کر بتا سکتے ہیں کہ وہ سیکسولی ایکٹو ہے یا نہیں ؟

    یہ سوال ایسا ہے جیسا کہ کسی کو باہر سے دیکھ کر یہ بتادینا کہ اسے ایچ آئی وی ایڈس ہے یا نہیں۔ کسی ہم کسی کو باہر سے دیکھ کر یہ اندازہ لگاسکتے ہیں کیا ؟ نہیں نا ۔

    یہ سوال ایسا ہے جیسا کہ کسی کو باہر سے دیکھ کر یہ بتادینا کہ اسے ایچ آئی وی ایڈس ہے یا نہیں۔ کسی ہم کسی کو باہر سے دیکھ کر یہ اندازہ لگاسکتے ہیں کیا ؟ نہیں نا ۔

    یہ سوال ایسا ہے جیسا کہ کسی کو باہر سے دیکھ کر یہ بتادینا کہ اسے ایچ آئی وی ایڈس ہے یا نہیں۔ کسی ہم کسی کو باہر سے دیکھ کر یہ اندازہ لگاسکتے ہیں کیا ؟ نہیں نا ۔

    • Share this:

      یہ سوال ایسا ہے جیسا کہ کسی کو باہر سے دیکھ کر یہ بتادینا کہ اسے ایچ آئی وی ایڈس ہے یا نہیں۔ کسی ہم کسی کو باہر سے دیکھ کر یہ اندازہ لگاسکتے ہیں کیا ؟ نہیں نا ۔ اسی طرح کسی کو باہر سے دیکھ کر یہ کبھی نہیں بتایا جاسکتا ہے کہ وہ سیکسول ایکٹو ہے یا نہیں۔
      اس طرح کا کوئی سوال ہمارے ذہن میں اس لئے پیداہوتا ہے کیونکہ اکثر اس بات کو شادی سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے کہ شادی کے بعد لڑکیوں کی جسمانی ساخت بدل جاتی ہے۔
      سوال : کیا سیکسول ایکٹو ہونے کے بعد جسم میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں ، جو باہر سے بھی نظر آنے لگتی ہیں؟۔ کیا ہمارے جسم کی ساخت میں کچھ تبدیلی آتی ہے؟ کیا کسی کو باہر سے دیکھ کر یہ بتایا جاسکتا ہے کہ کہ وہ سیکسول ایکٹو ہے یا نہیں ؟۔
      ڈاکٹر پارس شاہ
      جواب : یہ سوال ایسا ہے جیسا کہ کسی کو باہر سے دیکھ کر یہ بتادینا کہ اسے ایچ آئی وی ایڈس ہے یا نہیں۔ کسی ہم کسی کو باہر سے دیکھ کر یہ اندازہ لگاسکتے ہیں کیا ؟ نہیں نا ۔ اسی طرح کسی کو باہر سے دیکھ کر یہ کبھی نہیں بتایا جاسکتا ہے کہ وہ سیکسول ایکٹو ہے یا نہیں۔
      یہ بھی ایک طرح کی غلط فہمی ہی ہے۔ ہمارے سماج میں سیکس کو لے کر بہت ساری غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کے بارے میں یہ غلط فہمی کافی پھیلی ہوئی ہے کہ ایک مرتبہ سیکس کرنے کے بعد اس کے جسم کی ساخت میں تبدیلی آجاتی ہے، وزن بڑھتا ہے ، پستان زیادہ بڑا ہوجاتا ہے اور بیرونی شکل تبدیل ہوجاتی ہے۔ اسلئے انہیں دیکھ ہی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ سیکسول ایکٹو ہیں یا نہیں۔ اس طرح کا کوئی سوال ہمارے ذہن میں اس لئے پیداہوتا ہے کیونکہ اکثر اس بات کو شادی سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے کہ شادی کے بعد لڑکیوں کی جسمانی ساخت بدل جاتی ہے۔


      kam-ki-baat
      یہ بات بے بنیاد ہے اور اس کا سچ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کا سیکسولی ایکٹو ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لڑکی کے جسمانی ساخت میں تبدیلی تبدیلی کا سیکس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جسمانی ساخت کا تعلق ہمارے کھانے پینے اور صحت سے ہے۔
      ہاں ! سیکسولی ایکٹو ہونے کا ایک اثر یہ ہوسکتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں کی باڈی لنگویج اور رویہ میں ایک قسم کی خود اعتمادی نظر آنے لگتی ہے کیونکہ اپنے جسم کو لے کر زیادہ محتاط ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر اس کے بعد صنف مخالف کے تئیں سلوک میں بھی ایک قسم کا احتیاط نظر آنے لگتا ہے۔

      First published: