ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بچے کی ولادت کے تین ماہ بعد بناسکتے ہیں بیوی کے ساتھ جنسی تعلقات؟

دودھ پلانے کے دوران چھاتی کو ایکسائیٹیڈ کرنے کا کوئی حقیقی معنوں میں منفی نتیجہ نہیں ہوتا ہے، لیکن ہوسکتا ہے کہ ایک الگ طرح کی بے چینی کے ضمن میں اس کی چھاتی کسی اور طرح سے ردعمل ظاہر کرے۔

  • Share this:
بچے کی ولادت کے تین ماہ بعد بناسکتے ہیں بیوی کے ساتھ جنسی تعلقات؟
بچے کی ولادت کے تین ماہ بعد بناسکتے ہیں بیوی کے ساتھ جنسی تعلقات؟ علامتی تصویر

سوال: تین ماہ پہلے ہمارا ایک بچہ پیدا ہوا اور ڈلیوری نارمل تھی۔ اب ہم اپنے جنسی تعلقات کو آگے جاری رکھنے کے لئے ایکسائیٹیڈ ہیں، لیکن نوزائیدہ ابھی اپنی ماں کا دودھ پی رہا ہے، میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس وقت بیوی کی چھاتی کو ایکسائیٹیڈ کرنے اور دودھ پلانے کا کوئی برا نتیجہ تو نہیں ہوگا؟


جواب: سب سے پہلے تو آپ کو بچے کی مبارکباد۔ مجھے جان کر خوشی ہوئی کہ آپ اپنے جنسی تعلقات کو آگے جاری رکھنے کے لئے پُرجوش ہیں۔ حالانکہ دودھ پلانے کے دوران چھاتی کو ایکسائیٹیڈ کرنے کا کوئی حقیقی معنوں میں منفی نتیجہ نہیں ہوتا ہے، لیکن ہوسکتا ہے کہ ایک الگ طرح کی بے چینی کے ضمن میں اس کی چھاتی کسی اور طرح سے ردعمل ظاہر کرے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جب چھاتی سے دودھ نکلتا ہے تو اس دوران وہ بہت ہی حساس ہوتا ہے اور اس لئے آپ کی بیوی کو کسی طرح کی جوش و خروش سے بھاری تکلیف ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا ہے تو ان سے بات کیجئے اور چھاتی کو تب تک کے لئے ایکسائیٹیڈ کرنا بند کردیجئے، جب تک اس سے دودھ نکلتا ہے۔


پھر، جب ماوں کی چھاتی سے دودھ نکلتا ہے تو ان میں جنسی ایکسائیٹمنٹ کم ہوتی ہے۔ عموماً اس وجہ سے کہ اندام نہانی میں خشکی آجاتی ہے۔ دودھ پلانے کے دوران جسم بھاری مقدار میں پرولیکٹن نامی ہارمون بناتا ہے، جو ماوں کی چھاتی سے دودھ کے نکلنے میں مدد کرتا ہے اور اس دوران ایسٹریزن کم بنتا ہے۔ اس کی وجہ سے اندام نہانی میں خشکی آجاتی ہے اور جنسی تعلقات بنانا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب آپ اپنی بیوی کے ساتھ جنسی تعلقات کو دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں تو برائے مہربانی ان باتوں کا خیال رکھیں۔ اگر آپ کی بیوی کو اس طرح کی پریشانی آتی ہے تو آپ لیوب کا استعمال کرسکتے ہیں۔


پھر، یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ کی بیوی کی چھاتی کا پہلا اور بنیادی مقصد اس وقت اپنے بچے کو دودھ پلاکر غذا دینا ہے اور جنسی تعلقات بنانے کے لئے اسے روکا نیہں جاسکتا۔ اس لئے اس بات کی امید رکھئے اور اس کا اعتراف بھی کیجئے کہ جنسی تعلقات کے دوران دودھ نکل سکتا ہے، خاص طور پر اگر آپ چھاتی کو ایکسائیٹیڈ کرتے ہیں اور اسے چوسنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن آپ اسے قبول کرنے اور جاری رہنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کرسکتے۔

یاد رکھئے کہ صرف چھاتی کو ایکسائیٹڈ کرنا اور اسے چوسنا صرف ایک جنسی متبادل آپ کو اور آپ کے پارٹنر کو دستیاب نہیں ہے۔ اس کے جسم کے دیگر حصوں کو ایک نئے مواقع کے طور پر ایکسپلور کریں، جیسے کان کا نچلا حصہ، پیٹ اور کمر کے گھماو، وہ جگہ جہاں دونوں کولہے ملتے ہیں، گردن کا پچھلا حصہ اور دیگر مقامات۔ یاد رکھئے! اچھا سیکس تصور اور استعمال بھی ہے اور ابھی کی صورتحال کو ایک موقع سمجھ کر اپنے پارٹنر کے جسم کی زیادہ سے زیادہ تلاش کریں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 17, 2020 11:53 PM IST