உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیپٹن امریندر سنگھ: بی جے پی کے ہاتھ لگا ‘برہماستر‘، کانگریس-عام آدمی پارٹی سے نمٹنے کا بنایا یہ پلان

    پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ، وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے۔ (فائل فوٹو)

    پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ، وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے۔ (فائل فوٹو)

    پنجاب کی سیاست میں بڑی سیاسی ہلچل دیکھنے کو ملی۔ ریاست کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے اب بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ بی جے پی ان کا استعمال کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے خلاف کرنا چاہتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ امریندر سنگھ بی جے پی کے لئے کتنا مفید ثابت ہوتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: پنجاب کی سیاست میں بڑی سیاسی ہلچل دیکھنے کو ملی۔ ریاست کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے اب بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کے سیاسی کیریئر کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک ایسے لیڈر ہیں، جو پارٹی سے الگ اپنی زمینی پکڑ رکھتے ہیں۔ ان کے قد کے سامنے پارٹیاں بونی ثابت ہو رہی ہیں۔

      گزشتہ اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس سے الگ ہوکر اپنی پارٹی بنانے والے امریندر سنگھ اپنی پارٹی پنجاب لوک کانگریس کا بھی بی جے پی میں انضمام کردیا ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کے سیاسی کیریئر میں یہ دوسری بار ہے، جب وہ اپنی پارٹی کا انضمام کروا رہے ہیں۔  اس سے پہلے وہ ایسا کانگریس کے ساتھ بھی کرچکے ہیں۔

      کیپٹن امریندر سنگھ کے سیاسی کیریئر میں یہ دوسری بار ہے، جب وہ اپنی پارٹی کا انضمام کروا رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ ایسا کانگریس کے ساتھ بھی کرچکے ہیں۔
      کیپٹن امریندر سنگھ کے سیاسی کیریئر میں یہ دوسری بار ہے، جب وہ اپنی پارٹی کا انضمام کروا رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ ایسا کانگریس کے ساتھ بھی کرچکے ہیں۔


      کیپٹن امریندر سنگھ نے اکالی دل سے الگ ہوکر شرومنی اکالی دل (پنتھک) بنائی تھی اور اس کا 1992 میں کانگریس میں انضمام کروایا تھا۔ اس بار بھی کچھ ایسی صورتحال ہے۔ گزشتہ الیکشن میں ان کی پارٹی کی کارکردگی بے حد خراب رہی تھی۔ پارٹی ایک بھی سیٹ نہیں جیت پائی تھی۔ یہاں تک کہ وہ خود اپنے گڑھ کہے جانے والے پٹیالہ میں الیکشن ہار گئے۔

      کیپٹن امریندر سنگھ نے ایک بار نیوز 18 سے بات چیت میں کہا تھا، ’میں ایک فوجی ہوں، میں کبھی میدان نہیں چھوڑتا۔ میں لڑتے رہتا ہوں‘۔ انہوں نے یہ بات تب کہی تھی، جب انہیں کانگریس پارٹی نے الیکشن سے کچھ ماہ پہلے وزیراعلیٰ عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور اپنی پارٹی بنائی۔ اپنی ہر ریلی میں وہ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی پر تنقید کرتے رہے۔ حالانکہ انہوں نے اس حملے میں بھی ’لشکمن ریکھا‘ طے کر رکھی تھی۔ انہوں نے راہل اور پرینکا کی تنقید کرتے وقت بھی سونیا گاندھی اور راجیو گاندھی کا نام نہیں لیا۔ ممکنہ طور پر راجیو گاندھی کے ساتھ ان کی دوستی کا یہ تقاضا تھا۔

      امریندر سنگھ اپنی ہر ریلی میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی پر تنقید کرتے رہے۔
      امریندر سنگھ اپنی ہر ریلی میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی پر تنقید کرتے رہے۔


      دراصل، سونیا گاندھی کے خلاف کیپٹن امریندر سنگھ کے نہ بولنے کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔ سال 2017 میں اسمبلی الیکشن میں سونیا گاندھی نے راہل گاندھی کے اعتراض کے باوجود کیپٹن امریندر سنگھ کو پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر پیش کیا تھا اور ان کی قیادت میں الیکشن لڑا۔ ناچاہتے ہوئے بھی راہل گاندھی کو پنجاب میں کیپٹن امریندر سنگھ کو لیڈر کے طور پر قبول کرنا پڑا۔

       ایسا امکان ہے کہ بی جے پی جلد ہی کیپٹن امریندر سنگھ کو راجیہ سبھا بھیج دے۔

      ایسا امکان ہے کہ بی جے پی جلد ہی کیپٹن امریندر سنگھ کو راجیہ سبھا بھیج دے۔


      سب سے پہلے جہاں تک کیپٹن امریندر سنگھ کا سوال ہے تو ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنی سیاسی اہمیت بنائے رکھنا چاہتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے اور پوتے کو پنجاب کی سیاست میں جگہ ملے۔ ابھی تک یہ دونوں ریاست کی سیاست پر کوئی چھاپ نہیں چھوڑ پائے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      لکھیم پور میں بہنوں کی آبروریزی-قتل کیس: سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار

      یہ بھی پڑھیں۔

      چندی گڑھ یونیورسٹی ایم ایم ایس سانحہ: دو وارڈن معطل، پانچ رکنی کمیٹی کی تشکیل 

      دوسری طرف، بی جے پی کو امید ہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ کے آنے سے اسے 2024 کے لوک سبھا الیکشن میں فائدہ ملے گا۔ کیونکہ زرعی قوانین کو لے کر پیدا ہوئی ناراضگی اب ختم ہوچکی ہے۔ یہی نہیں، اب تک وہ اکالی دل کے ساتھ اتحاد میں رہی ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ وہ اپنے دم پر ریاست میں اپنی موجودگی درج کروائے۔ بی جے پی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر عام آدمی پارٹی کو ہرائے، جس سے کہ اس کے ایک سب سے جارح مخالف پارٹی کو خاموش کیا جاسکے اور اس کی جیت کے راستے (وجے مارچ) کو روکا جاسکے۔

      ایسا امکان ہے کہ بی جے پی جلد ہی کیپٹن امریندر سنگھ کو راجیہ سبھا بھیج دے۔ اس طرح بی جے پی کیپٹن امریندر کے چہرے کے ذریعہ کانگریس کو یہ یاد دلاتی رہے گی کہ اس نے پنجاب میں کیا غلطی کی۔ دوسری طرف راہل گاندھی جس طرح سے اپنی ‘بھارت جوڑو یاترا‘ میں لگے ہوئے ہیں، اس کی ایک کاٹ بھی کیپٹن ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ عام آدمی پارٹی کے خلاف بھی ایک بلند آواز ہوسکتے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: