உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس لیڈروں پر بھڑکے کیپٹن ، کہا : نہ جانے کیوں سدھو کو حکم چلانے کی دی جارہی اجازت

    کانگریس لیڈروں پر بھڑکے کیپٹن ، کہا : نہ جانے کیوں سدھو کو حکم چلانے کی دی جارہی اجازت

    کانگریس لیڈروں پر بھڑکے کیپٹن ، کہا : نہ جانے کیوں سدھو کو حکم چلانے کی دی جارہی اجازت

    کیپٹن امریندر سنگھ نے نوجوت سنگھ سدھو کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پورا منصوبہ سدھو اور ان کے ساتھیوں نے بنایا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کانگریس ابھی سدھو کو اتنی اہمیت کیوں دے رہی ہے ۔

    • Share this:
      چندی گڑھ : پنجاب میں کانگریس کے وزیر اعلی کو تبدیل کردینے کے بعد بھی سیاسی ہلچل ابھی تھمی نہیں ہے ۔ کانگریس لیڈر رندیپ سرجیوالا نے آج کہا کہ ریاست کے 79 میں سے 78 ممبران اسمبلی نے وزیر اعلی کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا ۔ سرجیوالا کے اس بیان پر ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی انچارج ہریش راوت نے پہلے کہا تھا کہ 43 ممبران اسمبلی نے کانگریس ہائی کمان کو ایک خط لکھا تھا ، جس میں میرے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا اور اب سرجیوالا کہہ رہے ہیں کہ 78 ممبران اسمبلی میرے خلاف تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کانگریس لیڈر ، نوجوت سنگھ سدھو کی طرح کامیڈی کر رہے ہیں ۔

      انہوں نے نوجوت سنگھ سدھو کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پورا منصوبہ سدھو اور ان کے ساتھیوں نے بنایا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کانگریس ابھی سدھو کو اتنی اہمیت کیوں دے رہی ہے ۔ بتادیں کہ سدھو نے چرنجیت سنگھ چنی کابینہ میں ردوبدل پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے پنجاب کانگریس صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔

      پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ نے پارٹی رہنماؤں کی طرف سے ریاست میں سیاسی بحران اور خراب انتظامات کو چھپانے کی کی جارہی کوششوں پر کانگریس کو پھٹکار لگائی ۔ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کانگریس لیڈروں کو مشورہ دیا کہ وہ قبول کرلیں کہ پارٹی ہائی کمان نے پنجاب کے معاملہ کو صحیح طریقے سے حل نہیں کیا ۔

      کیپٹن امریندر سنگھ نے ہریش راوت اور رندیپ سنگھ سرجیوالا کو بھی کھری کھوٹی سناتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما ممبران اسمبلی کی تعداد کے بارے میں الگ الگ جانکاری دے رہے ہیں ۔ پہلے ہریش راوت کہہ رہے تھے کہ صرف 43 ممبران اسمبلی نے کانگریس ہائی کمان کو ایک خط بھیجا تھا ، جس میں ان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا اور اب رندیپ سرجیوالا کہہ رہے ہیں کہ 79 میں سے 78  ممبران اسمبلی ان کے خلاف تھے ۔

      کیپٹن نے کہا کہ اس طرح کے دعوے ظاہر کرتے ہیں کہ کانگریس کے لیڈران ، نوجوت سنگھ سدھو کی طرح ہی کامیڈی کر رہے ہیں ۔ کیپٹن نے ان الزامات کا بھی جواب دیا جس میں کئی کانگریس لیڈروں نے کہا کہ کیپٹن اکالی دل سے ملے ہوئے ہیں ۔ کیپٹن نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو وہ گزشتہ 13 سالوں سے اکالی دل کے اقتدار میں رہنے کے دوران ان کے خلاف بنائے گئے کیسوں کو لے کر عدالت میں لڑائی نہ لڑ رہے ہوتے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: