உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Punjab Congress Crisis: کیپٹن امریندر سنگھ چھوڑ سکتے ہیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ، سنیل جھاکھڑ بنے فرنٹ رنر

    کیپٹن امریندر سنگھ چھوڑ سکتے ہیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ

    کیپٹن امریندر سنگھ چھوڑ سکتے ہیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ

    Punjab Congress Crisis: ذرائع نے بتایا کہ اعلیٰ کمان کی کوئی پسند یا ناپسند نہیں ہے۔ اگر کیپٹن امرینر سنگھ کے حق میں اکث نہیں ہے تو نیا چہرہ بھی اکثریت کی بنیاد پر ہی ہوگا۔ ذرائع کے مطابق، پنجاب میں وزیر اعلیٰ عہدے کی ریس میں سنیل جھاکھڑ، سکھجندر رندھاوا اور پرتاپ سنگھ باجوا کا نام سب سے آگے ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      چنڈی گڑھ: پنجاب میں کانگریس (Punjab Congress) قانون ساز کونسل کی میٹنگ سے قبل سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ خبر ہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ (Captain Amarinder Singh) کی وزیر اعلیٰ کی کرسی چھن سکتی ہے۔ پنجاب میں کانگریس کے 50 سے زیادہ اراکین اسمبلی نے پارٹی صدر سونیا گاندھی (Sonia Gandhi) کو خط لکھ کر گزارش کی ہے کہ امریندر سنگھ کو وزیر اعلیٰ عہدے سے ہٹایا جائے۔ ذرائع کے مطابق، کانگریس اعلیٰ کمان بھی اب اس تنازعہ مزید نہیں ملتوی کرنا چاہتا۔ ذرائع نے بتایا کہ اعلیٰ کمان نے پنجاب کے آبزروروں کو حکم دیا ہے کہ ریاست میں جاری رسہ کشی کو ختم کرنے میں اب تاخیر نہیں کرنی ہے۔

      قانون ساز کونسل کی میٹنگ میں جس کے حق میں اکثریت ہوگی۔ وہی ریاست کی کمان سنبھالے گا۔ کیپٹن کے پاس اکثریت نہیں ہوگی تو بدلنے کا فیصلہ فوراً لے لیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ اعلیٰ کمان کی کوئی پسند یا ناپسند نہیں ہے۔ اگر کیپٹن امرینر سنگھ کے حق میں اکث نہیں ہے تو نیا چہرہ بھی اکثریت کی بنیاد پر ہی ہوگا۔ ذرائع کے مطابق، پنجاب میں وزیر اعلیٰ عہدے کی ریس میں سنیل جھاکھڑ، سکھجندر رندھاوا اور پرتاپ سنگھ باجوا کا نام سب سے آگے ہے۔

       ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو خیمے کی کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف ناراض گروپ کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک لانے اور سینٹرل آبزروروں کو وزیر اعلیٰ چہرے کو لے کر ووٹنگ کروانے کا مطالبہ کئے جانے کی تیاری ہے۔

      ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو خیمے کی کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف ناراض گروپ کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک لانے اور سینٹرل آبزروروں کو وزیر اعلیٰ چہرے کو لے کر ووٹنگ کروانے کا مطالبہ کئے جانے کی تیاری ہے۔


      اس درمیان خبر یہ بھی ہے کہ پنجاب پردیش کانگریس میں بحران بڑھنے کے بعد امریندر سنگھ نے سونیا گاندھی سے فون پر بات کی اور بار بار ہورہی اپنی ’توہین‘ کو لے کر ناراضگی ظاہر کی۔ ذرائع کے مطابق، پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے سونیا گاندھی کو فون کرکے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ذریعہ انہیں اعتماد میں لئے بغیر کانگریس قانون ساز کونسل کی میٹنگ بلائے جانے پر اعتراض درج کرایا اور کہا کہ اگر اسی طرح سے پارٹی میں انہیں درکنار کیا جاتا رہا تو وہ وزیر اعلیٰ عہدے پر بنے رہنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ حالانکہ سونیا گاندھی سے امریندر سنگھ کے بات کرنے کے بارے میں فی الحال کوئی باضابطہ جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔

      سدھو اور کیپٹن خیمے کی تیاری

      ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو خیمے کی کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف ناراض گروپ کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک لانے اور سینٹرل آبزروروں کو وزیر اعلیٰ چہرے کو لے کر ووٹنگ کروانے کا مطالبہ کئے جانے کی تیاری ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسی دوران نوجوت سنگھ سدھو خیمے کے حامی اراکین اسمبلی اور وزیر نوجوت سنگھ سدھو کا نام بطور آئندہ قانون ساز پارٹی کے لیڈر کے طور پر آگے بڑھاسکتے ہیں۔ کیپٹن امریندر سنگھ خیمے کی تیاری ہے کہ کچھ بھی کرکے میٹنگ کے دوران کم از کم 60 اراکین اسمبلی کی ووٹنگ اپنے حق میں کرائی جائے۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: