جے این یو کے نجیب کودو سال میں بھی نہیں تلاش کرسکی سی بی آئی، ماں نے سی بی آئی پی پراٹھایا سوال

سی بی آئی کی طرف سے ہائی کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ نجیب کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ پوری کوشش کی گئی، لیکن کہیں بھی کوئی اطلاع نہیں ملی، جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ بند کرنے کی اجزات دی گئی۔

Oct 15, 2018 07:06 PM IST | Updated on: Oct 15, 2018 09:40 PM IST
جے این یو کے نجیب کودو سال میں بھی نہیں تلاش کرسکی سی بی آئی، ماں نے سی بی آئی پی پراٹھایا سوال

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد معاملہ میں سی بی آئی نے دہلی ہائی کورٹ میں کلوزر رپورٹ داخل کردی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو گمشدہ طالب علم معاملے میں سی آر لگانے کی اجازت دے دی ہے۔ سی بی آئی نے نجیب کے نہ ملنے پرہائی کورٹ سے کلوزررپورٹ داخل کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ اس طرح سے دو سال میں بھی سی بی آئی نجیب کو تلاش نہیں کرسکی اور اب تلاش بھی نہیں کرے گی۔

اس سے قبل سی بی آئی کی طرف سے ہائی کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ نجیب کو غائب ہوئے ایک سال 11 ماہ اور 14 دن ہوگئے ہیں، لیکن سی بی آئی کو نجیب کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ پوری کوشش کی گئی، لیکن کہیں بھی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ اس طرح سے نجیب کی ماں فاطمہ نفیس نے سی بی آئی پی سوال اٹھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی سے انصاف نہیں مل سکتا۔

Loading...

جسٹس ایس مرلی دھراور جسٹس ونود گوئل کی بینچ نے گمشدہ طالب علم نجیب کی ماں کی عرضی پرفیصلہ 4 ستمبرکو محفوظ کرلیا تھا۔ عدالت نے طالب علم کی ماں اورسی بی آئی کی دلیلوں پر سماعت پوری کی تھی۔ سی بی آئی نے گزشتہ سال 16 مئی کو معاملے کی جانچ سنبھالی تھی۔

پندرہ اکتوبر 2016 کو نجیب جے این یو کے ماہی مانڈوی ہاسٹل سے لاپتہ ہوگیا تھا۔ اس سے قبل گزشتہ اے بی وی پی کے کارکنان سے لڑائی ہوگئی تھی اور ان لوگوں پرنجیب کے ساتھ خطرناک مارپیٹ کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ اس پورے معاملے پرپورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اورکئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران بھی سڑکوں پرآئے، لیکن یہ معاملہ نہیں حل ہوسکا۔

یہ بھی پڑھیں:      جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد معاملہ میں سی بی آئی کو کلوزر رپورٹ داخل کرنے کی ملی اجازت

یہ بھی پڑھیں:         دہلی پولیس، سی بی آئی ہار سکتی ہے لیکن نجیب کی ماں نہیں، تلاش جاری رہے گی: فاطمہ

یہ بھی پڑھیں:       جے این یوکے لاپتہ طالب علم نجیب کے حق میں آواز اٹھانے والوں سے ہی پوچھ گچھ کررہی ہے سی بی آئی

 

Loading...