فریدآباد میں دو دلت بچوں کو زندہ جلائے جانے کے واقعہ کی سی بی آئی جانچ کی سفارش

فریدآباد:ہریانہ حکومت نے سنپڑگاوں دو دلت بچوں کو زندہ جلائے جانے کے واقعہ کی سی بی آئی جانچ کی سفارش کی ہے ، جن کے مکان کو کل اونچی ذات کے لوگوں نے نذرآتش کردیا تھا۔ اس واقعہ میں ان کے والدین جھلس گئے ہیں۔

Oct 21, 2015 08:34 PM IST | Updated on: Oct 21, 2015 08:34 PM IST
فریدآباد میں دو دلت بچوں کو زندہ جلائے جانے کے واقعہ کی سی بی آئی جانچ کی سفارش

فریدآباد:ہریانہ حکومت نے سنپڑگاوں دو دلت بچوں کو زندہ جلائے جانے کے واقعہ کی سی بی آئی جانچ کی سفارش کی ہے ، جن کے مکان کو کل اونچی ذات کے لوگوں نے نذرآتش کردیا تھا۔ اس واقعہ میں ان کے والدین جھلس گئے ہیں۔

ریاستی وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹرنے ملک بھر میں اس سانحہ پر شدید ناراضگی کے بعد سی بی آئی جانچ کی سفارش کی ہے۔

قبل ازیں مشتعل مقامی لوگوں نے قومی شاہراہ پر راستہ جام کردیا اور کہا کہ وہ دونوں بچوں کی آخری رسوم اس وقت تک ادا نہیں کریں گے جب تک انصاف نہیں ہو جاتا۔

اپنی باہوں پر دونوں معصوموں کی لاشیں اٹھا کر مشتعل افراد نے احتجاج کی قیادت کی اور دہلی آگرہ ہائی وے پر راستہ روک دیا۔ بعد میں پولیس نے انہیں وہاں سے جانے پر راضی کیا۔کل ملا کر اس معاملہ میں چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور سات پولیس والے معطل ہوئے ہیں۔

Loading...

ہریانہ کے اے ڈی جی پی محمد عاقل نے بتایاکہ ابتدائی جانچ کی بنیاد پر چار افراد کو پکڑا گیا ہے۔ گاوں میں تعینات پانچ پولیس والوں کو اور وہاں پی سی آر میں موجود پولیس افسران کو فرض سے کوتاہی کے جرم میں معطل کردیا گیا ہے۔ متعلقہ ایس ایچ او کو بھی معطل کیا گیا ہے۔

ڈھائی سال کا ویبھو اور گیارہ ماہ کی دویا جل کر مر گئے ہیں۔ ان کی ماں سنگین حالت میں اسپتال میں داخل ہیں اور باپ جتیندر جس کے اپنے بچوں کو بچاتے ہوئے ہاتھ جل گئے تھے، زخمی ہے۔

یہ واقعہ رات چار بچے پیش آیا جب کنبہ اپنے گھر میں سو رہا تھا اور بعض لوگوں نے مکان پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی ۔ یہ انتقامی حملہ سمجھا جارہا ہے۔ کیونکہ جتیندر اور حملہ آوروں کے درمیان زمین کے معاملہ میں دشمنی تھی۔

Loading...