உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فرضی مقدموں میں پھنسانے کے معاملے میں قصوروار 35 پولیس اہلکاروں کے خلاف سی بی آئی جانچ کا حکم

    الہ آباد ہائی کورٹ

    الہ آباد ہائی کورٹ

    ماں مایا دیوی نے عدالت کی پناہ لی۔ عدالت کے حکم پر ہائی وے تھانا متھرا میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ اس سے ناراض پولیس نے یاچی کی مان کے خلاف کیس درج کرلیا۔ اس کی شکایت قومی انسانی حقوق کمیشن کو کی گئی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Allahabad | New Delhi
    • Share this:
      الہ آباد: الہ آباد ہائی کورٹ نے ہائی وے تھانہ متھرا میں 35 پولیس اہلکاروں اور فیروز آباد کے رسول پور تھانے میں درج ایف آئی آر کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی ہے۔ عدالت نے 9 نومبر کو سی بی آئی کو جانچ کی پیشرفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن اور شیڈیول کاسٹ کمیشن کے حکم پر خصوصی جانچ ٹیم نے 35 پولیس اہلکاروں کو فرضی کیس درج کراکر پھنسانے کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔ اس کے باوجود پولیس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ الٹا پولیس نے شکایت واپس لینے کا دباو بنانے کے ہر ہتھکنڈے آزمائے۔ اغوا کے فرضی کیس میں ضبطی کی کارروائی کی۔

      عدالت نے چیف سکریٹری داخلہ لکھنو کو فیروزآباد کے رسول پور تھانے میں درج اغوا کیس سمیت دیگر معاملے سی بی آئی کو ٹرانسفر کرنے کا حکم دیا ہے۔ فیروزآباد رسول پور کیس کی تحقیقات کررہے آگرہ کے تحقیقاتی افسر و ایس ایس پی آگرہ کو تحقیقات سے روک کر ریکارڈ فوری سی بی آئی کو سونپنے کا حکم دیا ہے۔ درخواست کی سماعت نو نومبر کو ہوگی۔

      یہ حکم جسٹس سنیت کمار اور جسٹس سید ویز میاں کی بنچ نے سومیت کمار و دیگر کی درخواست پر دیا ہے۔ درخواست میں یاچی، اس کی والدہ اور بھائی کے خلاف درج اغوا کیس رد کرنے اور اس کی سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ کی گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      پینگانگ جھیل کے بعد اب گوگرا-ہاٹ اسپرنگ سے پیچھے ہٹی چینی افواج، تباہ کیے بنکر

      یہ بھی پڑھیں:
      تلنگانہ میں چار فیصد مسلم ریزرویشن پر آج سپریم کورٹ میں سماعت، جانیے تفصیلات

      یاچی کا کہنا ہے کہ پریم سنگھ نے یاچی کے بھائی پر جان لیوا حملہ کیا۔ یاچی کی ماں پولیس تھانے میں شکایت لے کر گئی لیکن ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ الٹا یاچی کا چالان کردیا گیا۔ ماں مایا دیوی نے عدالت کی پناہ لی۔ عدالت کے حکم پر ہائی وے تھانا متھرا میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ اس سے ناراض پولیس نے یاچی کی مان کے خلاف کیس درج کرلیا۔ اس کی شکایت قومی انسانی حقوق کمیشن کو کی گئی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: