உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Khargone violence: مدھیہ پردیش کی مساجدمیں CCTV کیمرےلگانےکی مہم تیز

    مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh)کے کھرگون میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد (Khargone violence)اور مساجد پر شر پسندوں کے حملے کے بعد مساجد میں کیمرہ لگانے کی مہم تیز ہوگئی ہے۔ بھوپال شہر قاضی و مفتی کےذریعہ مساجد میں کیمرہ لگانے کو لیکرمحکمہ دارالقضا و دارالافتاء سے خط جاری کرکے مدھیہ پردیش کے سبھی مسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے ۔

    مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh)کے کھرگون میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد (Khargone violence)اور مساجد پر شر پسندوں کے حملے کے بعد مساجد میں کیمرہ لگانے کی مہم تیز ہوگئی ہے۔ بھوپال شہر قاضی و مفتی کےذریعہ مساجد میں کیمرہ لگانے کو لیکرمحکمہ دارالقضا و دارالافتاء سے خط جاری کرکے مدھیہ پردیش کے سبھی مسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے ۔

    مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh)کے کھرگون میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد (Khargone violence)اور مساجد پر شر پسندوں کے حملے کے بعد مساجد میں کیمرہ لگانے کی مہم تیز ہوگئی ہے۔ بھوپال شہر قاضی و مفتی کےذریعہ مساجد میں کیمرہ لگانے کو لیکرمحکمہ دارالقضا و دارالافتاء سے خط جاری کرکے مدھیہ پردیش کے سبھی مسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے ۔

    • Share this:
    Khargone violence: مساجد میں کیمرہ(CCTV Camera) لگانے کو لیکر ابھی تک جہاں علمائے دین (Ulema )کے ذریعہ پرہیز کیا جاتا تھا وہیں مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh)کے کھرگون میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد (Khargone violence)اور مساجد پر شر پسندوں کے حملے کے بعد مساجد میں کیمرہ لگانے کی مہم تیز ہوگئی ہے۔ بھوپال شہر قاضی و مفتی کےذریعہ مساجد میں کیمرہ لگانے کو لیکرمحکمہ دارالقضا و دارالافتاء سے خط جاری کرکے مدھیہ پردیش کے سبھی مسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے ۔ علمائے دین بدلے ہوئے حالات میں مساجد کے باہر سی سی ٹی وی کیمرہ (CCTV)لگانے کو جہاں وقت کی ضرورت سے تعبیر کررہے ہیں وہیں مدھیہ پردیش کے وزیرداخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے بھی مساجد میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگانے کی شہر قاضی کی اپیل کو اچھی پہل سے تعبیر کیا ہے۔

    واضح رہے کہ دس اپریل کو مدھیہ پردیش کے کھرگون میں شر پسندوں کے ذریعہ نہ صرف مساجد کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ اس تشدد میں ابتک کی گئی کاروائی میں ستر لوگوں کو جیل بھیجا جا چکا ہے اور بیس لوگوں سے تفتیش جاری ہے ۔ حکومت کے احکام پر ضلع انتظامیہ کے ذریعہ ابتک دو درجن کے قریب لوگوں کے گھروں کو منہدم کیا جا چکا ہے۔بھوپال شہر قاضی ۔سید مشتاق علی ندوی نے نیوز ایٹین اردو سے خاص ملاقات میں بتایا کہ مساجد میں کیمرہ لگانا اب وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔ پریونشن از بیٹر دین کیور جو پرانی کہاوت ہے اس پر عمل کرکے ہم بہت سے فتنے سے بچ سکتے ہیں ۔اگر کوئی شرارت کرتا ہے تو ہمارے پاس ثبوت رہنا چاہیئے ۔اس لئے تمام ہی مساجد کے ذمہ داران سے اپیل کی گئی ہے کہ اپنی اپنی مساجد کے باہر سی سی ٹی وی کیمرہ کو لگائیں تاکہ آنے والے شر سے بچا جا سکے۔

    مساجد پر شر پسندوں کے حملے کے بعد مساجد میں کیمرہ لگانے کی مہم تیز
    مساجد پر شر پسندوں کے حملے کے بعد مساجد میں کیمرہ لگانے کی مہم تیز


    یہ بھی پڑھیں

    اسی کے ساتھ ماہ رمضان کے مبارک مہینے میں اپنی توجہ عبادت پر مرکوز کریں،افواہوں پر دھیان نہ دیں اور اگر کہیں پر کوئی بات ہوتی ہے تو اس سے انتظامیہ کے لوگوں کو باخبر کریں۔۔جب شہر قاضی سے پوچھا گیا کہ مساجد میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگانے کی اپیل صرف راجدھانی بھوپال کے لئے ہے یا صوبہ کے لئے تو انہوں نے بتایا کہ یہ اپیل پورے مدھیہ پردیش کی مساجد کے لئے کی گئی ہے تاکہ کل کو کہیں کوئی بات ہو تو ہم اپنے پاس ثبوت رکھ سکیں اور ذمہ داری کے ساتھ انتظامیہ اور حکومت کے سامنے بات پیش کر سکیں ۔

    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے بھوپال شہر قاضی اور مفتی کے ذریعہ محکمہ دارالافتاء کی جانب سے مساجد میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگانے کی اپیل کا خیر مقدم کیا ہے ۔ مدھیہ پردیش کے وزیر داحَلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ یہ ایک اچھی پہل ہے ،مساجد میں کیمرہ لگانا چاہیے ۔سبھی جانب امن و امان ہے ۔سبھی کو ایک دوسرےپر یقین کرنا چاہیے اور اگر کوئی بھرم دور ہوتا ہے سی سی ٹی وی سے اسے لگایا جا نا چاہیئے ۔

    بھوپال سے مہتاب عالم کی رپورٹ
    Published by:Mirzaghani Baig
    First published: