ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

Judge Uttam Anand:دھن آبادضلع جج اتم آنندکی مشتبہ موت کامعاملہ پہنچا سپریم کورٹ،منظرعام پرآیاویڈیو

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اتم آنند بدھ کی صبح سیر کیلئے نکلے تھے کہ رندھیر ورما چوک کے قریب ایک آٹو نے ان کو ٹکر ماری۔ تصادم میں ہلاک ہونے والے جج کی موت کا واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا ۔

  • Share this:
Judge Uttam Anand:دھن آبادضلع جج اتم آنندکی مشتبہ موت کامعاملہ پہنچا سپریم کورٹ،منظرعام پرآیاویڈیو
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اتم آنند کی موت کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر

دھن آباد: مارننگ واک پر جانے والے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اْتم آنند کی مشتبہ موت کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے عدالت سے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایس سی بی اے(SCBA) نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ اس معاملے کی آزادانہ انکوائری ہونی چاہیے کیونکہ اس واقعے کو انجام دینے کے پیچھے کوئی بڑی سازش ہوسکتی ہے۔


سپریم کورٹ نے کہا کہ واقعے سے متعلق معلومات چیف جسٹس این وی رمنا کے نوٹس میں آئیں کیونکہ وہ اس معاملے میں ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔ دراصل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اتم آنند کی موت کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آیاہے ۔ یہ کافی حد تک واضح ہے کہ آٹو نے جان بوجھ کرانہیں ٹکر ماری ہے۔


وہیں پولیس نے اس معاملہ میں آٹوڈرائیور اور اسکے دو ساتھیوں گرفتار کرلیاہے۔جھارکھنڈہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اس معاملہ کا خواز نوٹ لیتے ہوئے اس معاملہ میں ایس پی کوعدالت میں حاضرہونے کی ہدایت دی ہے۔



پولیس جج کی موت کے ہر پہلو کی تحقیقات کر رہی ہے جو سابق ایم ایل اے کا قریبی ساتھی ہے اور اس جج کی موت پر غور کیا جارہا ہے جو قتل جیسے متعدد اہم مقدمات کی سماعت کررہے تھے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ جلد ہی اس واقعے کے انکشاف کے بعد مجرموں کو سزا دی جائے گی۔ اسی کے ساتھ ہی ، ایم ایل اے نے اس معاملے میں سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ہم آپ کو بتادیں کہ دھن آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اتم آنند بدھ کی صبح سیر کیلئے نکلے تھے کہ رندھیر ورما چوک کے قریب ایک آٹو نے ان کو ٹکر ماری۔ تصادم میں ہلاک ہونے والے جج کی موت کا واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا ۔ جس میں یہ نظر آرہا ہے کہ ٹیمپو آٹو پہلے سیدھا سڑک پر جا رہا تھا اور جج سڑک کے کنارے چل رہے تھے۔ لیکن اچانک آٹو سڑک کے کنارے آیا اور جج کو مارنے کے بعد وہاں سے بھاگ گیا۔ اب پولیس اس معاملے میں قتل کے زاویہ سے بھی تفتیش کر رہی ہے لیکن میڈیا سے دوری برقرار رکھی ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jul 29, 2021 11:43 AM IST