உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جنرل بپن راوت کو لے جارہے کریش ہیلی کاپٹر کا بھیانک ویڈیو آیا سامنے، اب تک 13لاشیں برآمد، کل بیان جاری کرے گی حکومت

     ذرائع کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ جمعرات کو مرکزی حکومت کی جانب سے سی ڈی ایس بپن راوت اور ہیلی کاپٹر حادثے کے بارے میں پارلیمنٹ میں بیان جاری کریں گے۔  چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت سمیت فوج کے سیئنئر افسران کو لے جارہا ہیلی کاپٹر تملناڈو میں حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ خبر ہے کہ حادثے میں 11 لاشیں اب تک برآمد ہو چکی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ جمعرات کو مرکزی حکومت کی جانب سے سی ڈی ایس بپن راوت اور ہیلی کاپٹر حادثے کے بارے میں پارلیمنٹ میں بیان جاری کریں گے۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت سمیت فوج کے سیئنئر افسران کو لے جارہا ہیلی کاپٹر تملناڈو میں حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ خبر ہے کہ حادثے میں 11 لاشیں اب تک برآمد ہو چکی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ جمعرات کو مرکزی حکومت کی جانب سے سی ڈی ایس بپن راوت اور ہیلی کاپٹر حادثے کے بارے میں پارلیمنٹ میں بیان جاری کریں گے۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت سمیت فوج کے سیئنئر افسران کو لے جارہا ہیلی کاپٹر تملناڈو میں حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ خبر ہے کہ حادثے میں 11 لاشیں اب تک برآمد ہو چکی ہیں۔

    • Share this:
      Tamil Nadu Helicopter Crash: تمل ناڈو میں ہیلی کاپٹر حادثے پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کل (جمعرات) کو پارلیمنٹ میں بیان دیں گے۔ پہلے یہ کہا جا رہا تھا کہ راج ناتھ سنگھ بدھ کو ہی پارلیمنٹ میں بیان دے سکتے ہیں لیکن اب ذرائع کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ جمعرات کو مرکزی حکومت کی جانب سے سی ڈی ایس بپن راوت اور ہیلی کاپٹر حادثے کے بارے میں پارلیمنٹ میں بیان جاری کریں گے۔

      چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت سمیت فوج کے سیئنئر افسران کو لے جارہا ہیلی کاپٹر تملناڈو میں حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ خبر ہے کہ حادثے میں 13 لاشیں اب تک برآمد ہو چکی ہیں۔ ساتھ ہی، اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر میں تقریباً 14 افراد سوار تھے۔ سی ڈی ایس راوت کی اہلیہ کا نام بھی مسافروں میں شامل ہے۔ حکام نے بتایا کہ اب تک تین افسران کو بچایا جا چکا ہے۔ زخمیوں کو نیلگیری چھاؤنی لے جایا گیا ہے۔  ان کی اہلیہ،دفاعی معاون، سیکورٹی کمانڈوز اور فضائیہ کے پائلٹ سمیت کل 14 افراد سوار تھے۔ ہندوستانی فضائیہ نے حادثہ کے فوراً بعد ایک بیان میں کہا کہ سی ڈی ایس جنرل بپن راوت کو لے جا رہا ایک IAF Mi-17V5 ہیلی کاپٹر، تمل ناڈو کے کنور کے پاس آج حادثہ کا شکار ہوگیا۔ حادثہ کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لئے جانچ کے احکامات دیئے گئے ہیں۔

      خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ایم آئی Mi   سیریز کے ہیلی کاپٹر میں بپن راوت کے ساتھ ان کا کچھ عملہ اور خاندان کے افراد بھی موجود تھے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کام شروع کر دیا گیا ہے۔

      یہاں دیکجیں حادثے کی جگی کا ویڈیو



       


      واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ یہ معلومات ہندوستانی فضائیہ نے دی ہے۔ معلومات کے مطابق، بپن راوت، مدھولیکا راوت، بریگیڈیئر ایل ایس لڈر، لیفٹیننٹ کرنل ہرجیندر سنگھ، این کے گرو سیوک سنگھ، این کے جتیندر کمار، وویک کمار، بی سائی تیجا، ہاؤ ستپال موجود تھے۔ ہیلی کاپٹر سے دہلی سے سلور جا رہے تھے۔
      کریش کے بعد بلیک باکس کی تلاش جاری۔۔


      جنرل بپن راوت اس ایم آئی 17 سیریز ہیلی کاپٹر میں اہلیہ کے ساتھ سوار تھے، جو اوٹی کے پاس تباہ ہوگیا۔ جنرل بپن راوت کا فوجی کیریئر شاندار رہا ہے۔ وہ کتنے ذہین اور باصلاحیت فوجی افسر رہے ہیں۔ اس کو اسی بات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ جب ملک نے پہلا چیف آف ڈیفنس اسٹاف بنایا تو اس عہدے پر انہیں ہی نامزد کیا گیا۔
      31 دسمبر 2019 کو چیف آف آرمی اسٹاف کی عہدے سے ریٹائر ہونے کے اگلے ہی دن جنرل بپن راوت ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف بن گئے۔ بپن راوت 31 دسمبر 2016 سے 31 دسمبر 2019 تک ہندوستانی فوج کے چیف عہدے پر تعینات تھے۔

      جنرل بپن راوت کی پیدائش اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھ وال ضلع میں چوہان راجپوت فیملی میں ہوئی۔ ان کے والد بھی فوج میں افسر تھے۔ دراصل بپن راوت کی فیملی کی روایت ہی فوج میں جانے کی رہی ہے۔ انہوں نے 11ویں گورکھا رائفل کی پانچویں بٹالین سے 1978 میں اپنے کیریئر کی شرعات کی۔ جنرل بپن راوت کی پڑھائی دہرہ دون میں کیمبرین ہال اسکول، شملا میں سینٹ ایڈورڈ اسکول اور ہندوستانی فوج اکادمی۔ دہرہ دون سے ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ اپنی تعلیم کو آگے بڑھاتے رہے۔ انہوں نے ایم فل کیا اور پھر پی ایچ ڈی بھی۔ سال 2011 میں انہیں فوجی ملٹری میڈیا اسٹریٹجک اسٹڈیز پر تحقیق کے لئے چودھری چرن سنگھ میرٹھ سے پی ایچ ڈی سے نوازا گیا۔


      بپن راوت اپنے لمبے کیریئر میں کئی طرح کی فوجی مہم اور کارروائی میں شامل ہونے والے افسران میں شامل رہے۔ اقوام متحدہ ایسوسی ایشن کے کئی مشن میں بھی وہ شامل رہے۔ ہر بار ان کی بہادری، سمجھداری اور فوجی حکمت عملی کا لوہا سب نے مانا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ فوج میں ایک عہدے سے دوسرے عہدے پر ترقی کرتے گئے۔ جنرل بپن راوت کی اہلیہ مدھولیکا مدھیہ پردیش کے ضلع شاہڈول سے تعلق رکھتی ہیں۔ بپن راوت کی دو بیٹیاں ہیں۔ بڑی بیٹی کرتیکا کی کچھ وقت پہلے ہی ممبئی میں شادی ہوئی ہے جبکہ چھوٹی بیٹی تاریا ابھی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: