உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Popular Front of India پرپابندی لگانے کی تیاری میں مرکز، رام نومی تشدد کی سازش رچنے کا الزام

    پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی لگانے کی تیاری میں مرکز

    پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی لگانے کی تیاری میں مرکز

    Centra Ban Popular Front of India: پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی تشکیل سال 2006 میں ہوئی تھی اور اس کا ہیڈ کوارٹر دہلی میں ہے۔ مرکزی جانچ ایجنسی ملک میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کی مخالفت میں احتجاج کو بھڑکانے، دہلی کے فسادات اور کئی دیگر معاملوں میں پی ایف آئی کے مبینہ ’مالی وابستگی‘ کی جانچ کر رہی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مرکزی حکومت جلد کی پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) تنظیم پر پابندی عائد کرسکتی ہے۔ حال ہی میں پورے ملک کے مختلف ریاستوں میں اختتام پذیر رام نومی اتسو کے دوران ہوئے تشدد اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے لئے کیرلا واقع تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کو ہی ذمہ دار بتایا گیا ہے۔ ذرائع نے نیوز 18 کو جانکاری دی۔ جانکاری کے مطابق، پی ایف آئی پر پابندی لگانے کو لے کر حکومت اسی ہفتے فیصلہ لے سکتی ہے۔ مرکز نے کہا کہ پابندی سے جڑی ساری تیاری پوری ہوچکی ہے اور جلد ہی اس سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا جاسکتا ہے۔

      اسلامی تنظیم پی ایف آئی پر پہلے سے ہی کئی ریاستوں میں پابندی نافذ کردی گئی ہے، لیکن مرکزی حکومت اب ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ تنظیم پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔ گوا، گجرات، راجستھان، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں رام نومی جلوس کے دوران گزشتہ ہفتہ کے آخر میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ 14 اپریل کو، مدھیہ پردیش کے بی جے پی سربراہ وی ڈی شرما نے الزام لگایا تھا کہ پی ایف آئی نے کھرگون میں آگ زنی اور پھتراو کے لئے رقم کا استعمال کیا تھا، جس کے سبب علاقے میں ہوئے تشدد کے بعد وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

      تیجسوی سوریہ نے پی ایف آئی کو گھیرا

      نیوز18 ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے بی جے پی یوا مورچہ کے سربراہ تیجسوی سوریہ نے بھی پاپولر فرنٹ پر فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا۔ کانگریس کے زیر اقتدار راجستھان کے کرولی میں پتھراو کے مقام پر جانے سے روکے جانے کو لے کر تیجسوی سوریہ نے کہا، ’پی ایف آئی (پاپولر فرنٹ آف انڈیا) کی طرح ہمارے ہاتھوں میں ہتھیار یا پتھر نہیں تھے۔ ہم ’نیائے یاترا‘ کرنا چاہتے تھے اور متاثرین کے لئے انصاف کا مطالبہ کرنا چاہتے تھے‘۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      کیا جھوٹ تھا Imran Khan کا غیر ملکی سازش کے ہاتھ ہونے کا دعویٰ؟ پاکستانی آرمی نے بتایا پورا سچ

      ملک کے خلاف کچھ نہیں کیا: پی ایف آئی

      نیوز18 سے بات کرتے ہوئے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے جنرل سکریٹری انیس احمد نے کہا کہ تنظیم نے ملک کے خلاف کچھ بھی نہیں کیا ہے اور اگر حکومت نے اس پر پابندی عائد کرنے کی کوشش تو وہ قانونی اداروں سے رابطہ کرے گا۔ انہوں نے کہا، ’حکومت ہم پر پابندی نہیں عائد کرسکتی، ہم نے ملک کے خلاف کچھ نہیں کیا ہے۔ اگر حکومت ہم پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کرتی ہے تو ہمارے پاس جمہوری اور قانونی اداروں سے رابطہ کرنے کا راستہ کھلا ہے۔

      پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی تشکیل سال 2006 میں ہوئی تھی اور اس کا ہیڈ کوارٹر دہلی میں ہے۔ مرکزی جانچ ایجنسی ملک میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کی مخالفت میں احتجاج کو بھڑکانے، دہلی کے فسادات اور کئی دیگر معاملوں میں پی ایف آئی کے مبینہ ’مالی وابستگی‘ کی جانچ کر رہی ہے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: