உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Supreme Court:مرکز نے حلف نامہ داخل کرکے کہا، عیسائیوں پر بڑھتے حملے کا الزام لگانے والی درخواست میں کوئی دم نہیں

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    مرکزی حکومت نے یہ حلف نامہ ایک عرضی کے جواب میں داخل کیا ہے جس میں ملک بھر میں عیسائی اداروں اور پادریوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کا الزام لگایا گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ہندوستان میں عیسائیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کا الزام لگانے والی درخواست میں کوئی دم نہیں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے مشاہدہ کیا ہے کہ درخواست گزار نے واقعات کی غلط رپورٹنگ سے متعلق پریس رپورٹس کے ساتھ ساتھ غلط اور خود ساختہ دستاویزات کا سہارا لیا ہے۔

      وزارت داخلہ کی طرف سے سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے ایک حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ اسے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق عیسائیوں پر حملوں سے متعلق عرضی گزار کی طرف سے بیان کردہ زیادہ تر واقعات کو خبروں میں غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔

      حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ عرضی گزاروں نے یہ دعویٰ بعض میڈیا اداروں کی رپورٹس، آزاد آن لائن ڈیٹا بیس اور مختلف غیر منافع بخش تنظیموں کے نتائج جیسے ذرائع سے جمع کی گئی معلومات کی بنیاد پر کیا ہے۔ مرکز نے کہا ہے کہ پوچھ تاچھ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان رپورٹس میں عیسائیوں پر ظلم و ستم کے زیادہ تر واقعات یا تو جھوٹے تھے یا غلط طریقے سے پیش کیے گئے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Dalit Boy Beaten to Death: استادنےدلت لڑکےکوپیٹا، لڑکےکی ہوئی موت! وجہ جان کر ہوں گےحیران

      یہ بھی پڑھیں:
      اب طلاق احسن کو غیر قانونی اعلان کرنے کی اٹھی مانگ، SC نے کیا اہم تبصرہ

      کچھ معاملات خالصتاً مجرمانہ نوعیت کے تھے اور ذاتی مسائل سے پیدا ہونے والے واقعات کو عیسائیوں کے خلاف تشدد قرار دیا گیا ہے جبکہ بہت سے واقعات جو سچے یا مبالغہ آمیز پائے گئے ان کا تعلق عیسائیوں کو نشانہ بنائے جانے والے تشدد کے واقعات سے ضروری نہیں تھا۔ مرکزی حکومت نے یہ حلف نامہ ایک عرضی کے جواب میں داخل کیا ہے جس میں ملک بھر میں عیسائی اداروں اور پادریوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کا الزام لگایا گیا ہے۔ درخواست میں نفرت انگیز جرائم پر قابو پانے کے لیے رہنما خطوط پر عمل درآمد کی مانگ کی گئی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: