ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تبلیغی جماعت کے خلاف زہر افشانی معاملہ: مرکزی حکومت نے تیسری مرتبہ حلف نامہ داخل کیا

مرکزی حکومت کے ذریعے تیسری مرتبہ اس وجہ سے حلف نامہ داخل کیا گیا ہے کیونکہ اس سے قبل داخل کردہ دو حلف ناموں پر چیف جسٹس آف انڈیا نے شدید برہمی کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے بعد سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ وہ اپنی زیر نگرانی حلف نامہ تیار کرواکرعدالت میں داخل کریں گے۔

  • Share this:
تبلیغی جماعت کے خلاف زہر افشانی معاملہ: مرکزی حکومت نے تیسری مرتبہ حلف نامہ داخل کیا
تبلیغی جماعت کے خلاف زہر افشانی معاملہ: مرکزی حکومت نے تیسری مرتبہ حلف نامہ داخل کیا

نئی دہلی: کورونا آفت کو مرکز نظام الدین سے جوڑ کر تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں اور بالخصوص مسلم طبقے کے خلاف زہرافشانی اور نفرت انگیزی کے معاملے میں متعدد میڈیا ہاوس، ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیا کے خلاف مولانا سید ارشدمدنی گروپ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کی گئی اراضی پر کل سپریم کورٹ میں سماعت ہونی ہے۔ حالانکہ کہ اس دوران مرکزی حکومت کے ذریعے تیسری بار حلف نامہ داخل کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کے رجسٹرار کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق کل چیف جسٹس آف انڈیا اے ایس بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم کے روبرو معاملہ سماعت کے لئے پیش ہوگا۔


مرکزی حکومت کے ذریعے تیسری مرتبہ اس وجہ  سے حلف نامہ داخل کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس سے قبل داخل کردہ دو حلف ناموں پر چیف جسٹس آف انڈیا نے شدید برہمی کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے بعد سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ وہ اپنی زیر نگرانی حلف نامہ تیار کرواکرعدالت میں داخل کریں گے۔


جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے داخل پٹیشن میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی مدعی ہیں انہوں نے کہا کہ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کو حلف نامہ موصول ہوچکا ہے نیز سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے کو بھی اس کی کاپی دی جاچکی ہے جو کل جمعیت علماء کی جانب سے بحث کریں گے۔


اس ضمن میں گلزار اعظمی نے الزام لگایا ہے  کہ مرکزی حکومت بعض نیوز چینلوں کو بچانا چاہتی ہے جنہوں نے منافرت پر مبنی رپورٹنگ کی تھی نیز مرکزی حکومت  نے اس کے حامی اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر کارروائی نہ ہو اس کے لیئے عدالت میں دو مرتبہ  ایسا حلف نامہ داخل کیاتھا جس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے اعتراض کیا تھا نیز جمعیت علماء ہند پر غیر مصدقہ خبروں کی بنیاد پر پٹیشن داخل کرنے کا بے بنیاد الزام بھی لگایا تھا واضح رہے کہ گزشتہ سال 6 اپریل کو پٹیشن داخل کی گئی تھی، اس کی متعدد سماعتیں ہوچکی ہیں اور آخری سماعت 29 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 29, 2021 08:29 PM IST