உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممبئی میں کووڈ-19 کے XE ویریئنٹ ملنے کی رپورٹ خارج، مرکزی وزارت صحت نے دی یہ اہم جانکاری

    ممبئی میں کووڈ-19 کے XE ویریئنٹ ملنے کی رپورٹ خارج

    ممبئی میں کووڈ-19 کے XE ویریئنٹ ملنے کی رپورٹ خارج

    Omicron sub Variant XE: کورونا کے اومیکران ویریئنٹ (Omicron Variant) کے سب ویریئنٹ کا پہلا معاملہ ملنے کی ہندوستانی حکومت (Government of India) نے تردید کی ہے۔ اس نئے ویریئنٹ سے ایک مریض کے متاثر ہونے کی رپورٹ آنے کے کچھ گھنٹے بعد ہی مرکزی وزارت صحت نے واضح کیا کہ فی الحال موجودہ ثبوت سے یہ واضح نہیں ہوتا ہے کہ نمونہ میں اس ویریئنٹ کی موجودگی ہے۔

    • Share this:
      ممبئی: کورونا وائرس کے اومیکران ویریئنٹ (Omicron Variant) کے سب ویریئنٹ XE کا پہلا معاملہ مدلنے کا ہندوستانی حکومت (Government of India) نے تردید کی ہے۔ اس نئے ویریئنٹ سے ایک مریض کے متاثر ہونے کی رپورٹ آنے کے کچھ گھنٹے بعد ہی مرکزی وزارت صحات نے واضح کیا کہ فی الحال موجودہ ثبوت سے یہ واضح نہیں ہوتا ہے کہ سیمپل میں اس ویریئنٹ کی موجودگی ہے۔ وہیں بی ایم سی کا کہنا ہے کہ بدھ کو INSACOG کی میٹنگ میں انہوں نے مزید کہا کہ جانچ کے لئے سیکونگسنگ ڈیٹا NIBMG کو بھیجنے کے لئے کہا ہے تاکہ XE ویریئنٹ کی تصدیق کی جاشکے۔

      مرکزی وزارت صحت کے ذرائع نے کہا کہ پہلے کیس کی رپورٹ کے بعد بتایا کہ سیمپل کی FastQ فائلیں، جنہیں XE ویریئنٹ بتایا گیا ہے۔ ان کی جینومک ایکسپرٹ نے گہرائی سے جانچ کی۔ اس سے یہ پتہ چلا کہ اس ویریئنٹ کا جینومک آئین XE ویریئنٹ کی جینومک تصویر سے متعلق نہیں ہے۔

      وہیں بی ایم سی کے افسر نے بدھ کو کہا کہ کووڈ-19 کے زیادہ خطرناک ویریئنٹ XE کا پہلا معاملہ ممبئی میں سامنے آیا ہے۔ فروری میں جنوبی افریقہ سے ممبئی آئی ایک خاتون میں اومیکران ویریئنٹ کے اس سب ویریئنٹ کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس خاتون میں کسی طرح کے اہداف نہیں تھے اور اب وہ صحتیاب ہوچکی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      ED کی کارروائی کے درمیان PM مودی سے این سی پی سربراہ شرد پوار کی ملاقات

      ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا کہ برطانیہ میں پہلی بار ملا اومیکران کا نیا ویریئنٹ کورونا وائرس کے گزشتہ ویریئنٹ کے مقابلے زیادہ خطرناک ہے۔ WHO نے اپنی تازہ ترین اپڈیٹ میں کہا کہ XE ریکامبنینٹ (BA.1-BA.2) نام کے نئے اومیکران ویریئنٹ کا پہلی بار برطانیہ میں 19 جنوری کو پتہ چلا تھا اور تب سے اس کے 600 سے زیادہ معاملوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

      اس درمیان ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ فار نیٹجنس اینڈ سوسائٹی نے کووڈ-19 کے نئے میوٹنٹ کو لے کر ملک کے شہریوں سے نہیں گھبرانے کی گزارش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ادارے نے نئے ویریئنٹ XE کی توسیع پر باریکی سے نظر رکھنے کو بھی کہا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: