اپنا ضلع منتخب کریں۔

    اسلام ۔ عیسائی مذہب اپنانے والے دلتوں کو 'ایس سی' کا درجہ نہیں دے سکتے، مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا

    سپریم کورٹ فائل فوٹو

    سپریم کورٹ فائل فوٹو

    Big News: مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ 'آئین (شیڈیولڈ کاسٹ) آرڈر 1950 کسی بھی 'غیر آئینیت' کا شکار نہیں ہے۔ عیسائیت اور اسلام کو اس وجہ سے باہر رکھا گیا ہے کہ ان دونوں مذاہب میں چھوا چھوت کا نظام موجود نہیں تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi
    • Share this:
      نئی دہلی : مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ 'آئین (شیڈیولڈ کاسٹ) آرڈر 1950 کسی بھی 'غیر آئینیت' کا شکار نہیں ہے۔ عیسائیت اور اسلام کو اس وجہ سے باہر رکھا گیا ہے کہ ان دونوں مذاہب میں چھوا چھوت کا نظام موجود نہیں تھا۔ وقت وقت پر ترمیم کئے گئے آئین (شیڈیولڈ کاسٹ) آرڈر 1950 میں کہا گیا ہے کہ ہندو ، سکھ اور بودھ مذاہب کو چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب کو ماننے والے کسی شخص کو شیڈول کاسٹ ( ایس سی ) کا رکن نہیں مانا جائے گا ۔

      حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کو قبول نہیں کیا ہے، جس میں دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کو درج فہرست ذاتوں کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی، کیونکہ یہ خامیوں سے پر تھی۔ حکومت نے ایک عرضی پر سپریم کورٹ میں داخل جواب میں ان مسائل کا تذکرہ کیا۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ آئین (شیڈولڈ کاسٹ) آرڈر 1950 امتیازی ہے اور آئین کے آرٹیکل 14 (قانون کے سامنے مساوات) اور 15 (مذہب، نسل، ذات وغیرہ کی بنیاد پر بھید بھاو کی ممانعت) کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔

      یہ بھی پڑھئے: سدھو موسے والا قتل کیس: سنگر ببو مان اور منکیرت اولکھ سے ایس آئی ٹی نے کی پوچھ گچھ


      یہ بھی پڑھئے: ان 5 وجوہات نے اے اے پی کی طرف موڑ دیا مینڈیٹ، عوام کو کیجریوال سے اس لئے پیدا ہوئی امید


      یہ معاملہ سماعت کیلئے جسٹس ایس کے کول کی سربراہی والی بینچ کے سامنے آیا۔ بینچ میں اے ایس اوکا اور جسٹس وکرم ناتھ بھی شامل ہیں ۔ عرضی گزار این جی او پبلک انٹریسٹ لٹیگیشن اور دیگر کی طرف سے پیش سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے بینچ کو بتایا کہ مرکز نے ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملہ کو دیکھنے کے لئے ایک اور کمیشن مقرر کرنا چاہتا ہے ۔

      بھوشن نے بینچ کو بتایا کہ حکومت نے نئے کمیشن کو دو سال کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کیلئے کہا ہے۔ بینچ نے اس موضوع پر درخواستوں کے بیچ کی سماعت اگلے سال جنوری کے لئے مقرر کی۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: