ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بھوپال: ایرانی امام باڑہ میں ضلع انتظامیہ کے ذریعہ کی گئی انہدامی کاروائی کا معاملہ

بھوپال ریلوے اسٹیشن کے سامنے واقع قدیم ایرانی امام باڑا سے متصل مکانات اور دکانوں کو انہدامی کاروائی کے تحت گرانے کو لیکر ممتاز شیعہ عالم دین مولانا سید کلب جواد نقوی نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

  • Share this:
بھوپال: ایرانی امام باڑہ میں ضلع انتظامیہ کے ذریعہ کی گئی انہدامی کاروائی کا معاملہ
بھوپال ریلوے اسٹیشن کے سامنے واقع قدیم ایرانی امام باڑا سے متصل مکانات اور دکانوں کو انہدامی کاروائی کے تحت گرانے کو لیکر ممتاز شیعہ عالم دین مولانا سید کلب جواد نقوی نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

بھوپال ریلوے اسٹیشن کے سامنے واقع قدیم ایرانی امام باڑا سے متصل مکانات اور دکانوں کو انہدامی کاروائی کے تحت گرانے کو لیکر ممتاز شیعہ عالم دین مولانا سید کلب جواد نقوی نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ مولانا سید کلب جواد نے بھوپال نگر نگم کے ذریعہ بغیر کسی نوٹس کے یک طرفہ کی گئی  کاروائی کو لیکر وزیر اعلی شیوراج سنگھ کے سامنے حقائق پیش کئے اور ذمہ دارافسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ ماہ نومبر کو جب وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے زمینی مافیاؤں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا اعلان کیاتھا تو 28 نومبر کو بھوپال نگر نگم نے سخت سکوریٹی کے بیچ قدیم ایرانی امام باڑہ سے متصل مکانات اور دکانوں کو بھی بلڈوزر لگا کر زمین دوز کردیاتھا۔ چونکہ اس وقت کورونا کا قہر تھا اور کسی کو کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں تھے اور جب حالات سازگار ہوئے تو ایرانی امام باڑہ سے متصل مکانات اور دکانوں پر کی گئی  انہدامی کارروائی کے خلاف ممتاز شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نے لکھنؤ سے بھوپال آکر ریاست کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ سے ان کی رہائش گا ہ پر ملاقات کی ۔



مولانا سید کلب جواد نے وزیر اعلی سے ملاقات کے بعد ایرانی امام باڑہ کے پاس کی گئی انہدامی کاروائی کے متاثرین سے ملاقات کی ۔ نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حیرت ہے کہ ضلع انتظامیہ اور نگر نگم نے اس جگہ پر کاروائی کی ہے جہاں پر تہذیبوں کا سنگم ہوتا ہے ۔ امام باڑا کی زمین ایک ہندو بھائی نے شیعہ کمیونٹی کی دی تھی اور آج تک اس نے اس کا کبھی کرایہ نہیں لیاہے۔ نگر نگم اور انتظامیہ کے ذریعہ یک طرفہ کاروائی بغیر کسی نوٹس کےکی گئی تھی اور ہم  نے اس معاملے کو لیکر وزیر اعلی سے ملاقات کی اور انہیں حقائق سےآگاہ کیاہے۔ وزیر اعلی نے ہمیں اس پر مناسب ایکشن لینے کا یقین دلایا ہے۔ہم نے اس معاملے میں متاثرین جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں  کو معاوضہ دینے اور ذمہ دارافسران کے خلاف سخت کاروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔



واضح رہے کہ بھوپال کا قدیم ایرانی امام باڑا ریاسی عہد میں قائم ہواتھا۔ ایران سے بھوپال میں گھوڑوں کی تجارت کے لئے آنے والے شیعہ کمیونٹی کے لوگوں نے یہاں امام باڑا قائم کیا تھا۔ یہ زمین جس پر ایرانی سماج نے امام باڑا تعمیر کیاتھا یہ ہندو بھائی کے ذریعہ شیعہ مسلمانوں کو تحفہ میں دی گئی تھی۔ نگر نگم نے گزشتہ سال اٹھائیس نومبر کو مذکورہ زمین پر ناجائز قبضہ بتاتے ہوئے انہدامی کاروائی تو کی لیکن آج تک اس کو لیکر کوئی دستاویزنہیں پیش کر سکا۔ مولانا کلب جواب صاحب کے ساتھ گئے وفد کو وزیر اعلی نے انصاف دلانے کا یقین تو دلایا ہے مگر یہ انصاف کب ملتا ہے یہ دیکھنا ہوگا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Feb 04, 2021 10:53 PM IST