உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کھرگون تشدد کا سرودھرم سدبھاؤنا منچ اور جمعیت علما کا وفد لے گا جائزہ

    مدھیہ پردیش جمعیت علما نے تشدد کے نام پر حکومت اور انتظامیہ پر یکطرفہ کاروائی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے حالات کا جائزہ لینے کے لئے سرودھرم سدبھاؤنا منچ اور جمیعت علما کے وفد کے جانے کا اعلان کیا ہے۔

    مدھیہ پردیش جمعیت علما نے تشدد کے نام پر حکومت اور انتظامیہ پر یکطرفہ کاروائی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے حالات کا جائزہ لینے کے لئے سرودھرم سدبھاؤنا منچ اور جمیعت علما کے وفد کے جانے کا اعلان کیا ہے۔

    مدھیہ پردیش جمعیت علما نے تشدد کے نام پر حکومت اور انتظامیہ پر یکطرفہ کاروائی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے حالات کا جائزہ لینے کے لئے سرودھرم سدبھاؤنا منچ اور جمیعت علما کے وفد کے جانے کا اعلان کیا ہے۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش کے کھرگون میں دس اپریل کو ہوئے فرقہ وارنہ  تشدد کے سولہ دن بعد حالات سازگار ہوگئے ہیں ۔ کرفیو میں جہاں آج نو گھنٹے کی ڈھیل دی گئی وہیں دوسری جانب تشدد کے نام پر انتظامیہ کے ذریعہ کی جارہی انہدامی کاروائی کو لیکر سیاست جاری ہے ۔ مدھیہ پردیش جمعیت علما نے تشدد کے نام پر حکومت اور انتظامیہ پر یکطرفہ کاروائی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے حالات کا جائزہ لینے کے لئے سرودھرم سدبھاؤنا منچ اور جمیعت علما کے وفد کے جانے کا اعلان کیا ہے ۔ واضح رہے کہ کھرگون تشدد میں ابتک ایک سو چوون لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے جس میں سے دو لوگ ایسے بھی ہیں جن کے خلاف این ایس اے کے تحت کاروائی کی گئی ہے ۔حکومت کے ذریعہ کی جانے والی کاروائی کوشر پسند عناصر کے خلاف کاروائی سے تعبیر کیا جا رہا ہے وہیں سماجی تنظیموں کے ذریعہ یکطرفہ کاروائی کا الزام لگایا جا رہا ہے ۔ مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد  ہارون کا کہنا ہے کہ جب بھی کہیں تشدد ہوتا ہے تو دونوں جانب کے لوگ قصوروار ہوتے ہیں۔کھرگون تشدد میں دونوں جانب سے نقصا ن ہوا ہے ۔دونوں جانب کے لوگوں کے گھر جلائے گئے ہیں لیکن حکومت قانون کی بالادستی قائم کرنے کے بجائے خود پارٹی بن کر یکطرفہ کاروائی کی حمایت کر رہی ہے ۔

    حکومت کے ذریعہ ان لوگوں کے بھی گھر منہدم کئے گئے ہیں جو اب اس دنیا میں ہی نہیں ہیں۔ کچھ ایسے لوگوں کے بھی گھر منہدم کئے گئے ہیں جودونوں ہاتھوں سے معذور ہیں ۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو تشدد سے پہلے سے جیل میں ہیں ۔انصاف کا تقاضہ تو یہ تھا کہ حکومت شر پسندوں کی سرزنش کرتی اور دونوں سماج کے لوگوں کو ایک جگہ بیٹھاکر سمجھاتی تاکہ دوبارہ ایسے معاملات پیش نہ آئیں مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ میں آپ کو بتا دوں کی حکومت کے ذریعہ جو انہدامی کاروائی کی جارہی ہے اسے نا جائز قبضہ بتایا جا رہا ہے۔اسی مدھیہ پردیش میں اسی شیوراج سنگھ حکومت نے پانچ ہزار سے زیادہ غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی کالونیوں کو قانونی درجہ دینے کا کام کیا ہے۔

    یہ بھی پڑھئے: ماہ صیام کاتیسرا اور آخری عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کاہے، شب قدر، اعتکاف اور اس کی فضیلت

    وہیں دوسری جانب ایک فرقہ کے لوگوں کے مکان اور دکان کو غیر قانونی کہہ کر زمیں دوز کیا جا رہا ہے جو سراسر غلط ہے۔ حالات کا جائزہ لینے کے لئے سرو دھرم سدبھاؤنا منچ اور جمعیت علما کا وفد کھرگو ن جائے گا تاکہ حقائق سامنے آسکیں ۔اس کے بعد دہلی کی طرز پر ایم پی کے معاملات کو لیکر بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا ۔

    Afghanistan کے مزار شریف کی مسجد میں بڑا دھماکہ، کئی لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ۔۔۔

    وہیں مدمدھیہ پردیش شیوراج سنگھ حکومت میں سینئر کابینہ وزیر و وزیر برائے شہری ترقیات بھوپیندر سنگھ کہتےہیں کہ شر پسندوں کو کسی مذہب سے جوڑکر دیکھنا غلط ہے ۔دنگائیوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے ۔ کھرگون میں دنگائیوں پر کاروائی کی گئی ہے اور جہاں بھی قانون  کو ہاتھ میں لینے کا کام کیا جائے گا ،بہو بیٹوں پر کوئی ہاتھ اٹھائے گا حکومت کی کاروائی جاری رہے گی ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: