உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بزرگ شخص کو راستے میں لگا پیشاب، استنجا کیلئے کنارے پر بیٹھے تو نام نہاد تنظیم کے لوگوں نے کر ڈالی انتہائی شرمناک حرکت

    نیوز ایٹین اردو کی خبرکے بعد رتلام پولیس نے تین لوگوں کو کیا گرفتار

    نیوز ایٹین اردو کی خبرکے بعد رتلام پولیس نے تین لوگوں کو کیا گرفتار

    سیف الدین کا کہنا ہے کہ دکان جاتے وقت اچانک راستے میں پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی اور راستے میں کہیں بھی طہارت خانہ دکھائی نہیں دیا تو میں راستے میں ایک کنارے پیشاب کرلیا۔ حالانکہ گائے دور بندھی ہوئی تھی۔ پھر بھی میں نے اپنی غَلطی کے لئے معافی مانگی لیکن انہوں نے میری ایک بھی نہیں سنی اورمارنے پیٹنے کے ساتھ مذہبی گالیاں دیں۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ حکومت کے دعوؤں کے باوجود مذہبی منافرت کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ نام نہاد تنظیموں کے ذریعہ ایک فرقہ کے لوگوں کو زد و کوب کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کھنڈوا میں ایک فرقہ کے لوگوں کا گھر اور گاڑی جلانے کا معاملہ ابھی سرد بھی نہیں پڑا تھا کہ مدھیہ پردیش کے رتلام میں بوہرہ سماج کے ایک شخص کو اس لئے مارا گیا کہ اس نے گائے کے سامنے بیٹھ کر استنجا کیا تھا۔ حالانکہ سیف الدین نامی شخص نے اپنی غلطی کے لئے معافی بھی مانگی اس کے باوجود نام نہاد تنظیم کے لوگوں کے ذریعہ بوہرہ سماج کے سیف الدین نامی شخص کے ساتھ مارپیٹ کی گئی ۔ نیوز ایٹین اردو کے ذریعہ خبر دکھائے جانے کے بعد پولیس نے تین لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے لیکن بوہرہ سماج میں اس معاملہ کو لیکر ناراضگی برقرار ہے ۔
    واضح رہے کہ رتلام کا سیف الدین نامی شخص جب دکان کے لئے جا رہا تھا تو اسے راستے میں استنجا کی حاجت ہوئی اور اس نے جگہ پر بیٹھ کر استنجا کرلیا جہاں پر کچھ گائے بندھی ہوئی تھیں ۔ نام نہاد تنظیم کے لوگ وہاں پر پہنچے اور جب اعتراض کیا تو سیف الدین نے اپنی غلطی کے لئے معافی مانگی اور کان بھی پکڑے لیکن اس سے بھی نام نہاد تنظیم کے کارکنان کا غصہ ٹھنڈہ نہیں ہوا بلکہ انہوں نے سیف الدین کی جم کر پٹائی کردی۔

    سیف الدین کا کہنا ہے کہ دکان جاتے وقت اچانک راستے میں پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی اور راستے میں کہیں بھی طہارت خانہ دکھائی نہیں دیا تو میں راستے میں ایک کنارے پیشاب کرلیا۔ حالانکہ گائے دور بندھی ہوئی تھی۔ پھر بھی میں نے اپنی غَلطی کے لئے معافی مانگی لیکن انہوں نے میری ایک بھی نہیں سنی اورمارنے پیٹنے کے ساتھ مذہبی گالیاں دیں اور ٹوپی کو پیروں میں ڈال دیا۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔

    وہیں رتلام ایس پی گورو تیواری کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ پولیس کی جانکاری میں آیا ہے اور اس میں فوری طور پر کاروائی کرتے ہوئے تین لوگوں کو گرفتار کر لیاگیا ہے ۔قانون اپنا کام کر رہا ہے ۔ قانون کسی کو بھی ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے ۔


    پولیس کے ذریعہ حالانکہ تین لوگوں کی گرفتاری کی جا چکی ہے لیکن رتلام سمیت مدھیہ پردیش کے دوسرے شہروں میں بوہرہ سماج کا غصہ برقرار رہے اور ا ن کا کہنا ہے کہ پولیس کے ذریعہ گرفتاری تو کی گئی ہے لیکن انہیں معمولی دفعات میں گرفتار کیا گیا ہے ۔اس معاملہ کو لیکر رتلام میں بوہرہ سماج کے لوگ ایس پی سے آج ملاقات بھی کرینگے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: