ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

آسام کے بعد اب مدھیہ پردیش کے مدارس حکومت کے نشانے پر

مدارس کے نظام تعلیم کو نشانہ بنانے کے ساتھ مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت و مذہبی امور اوشا ٹھاکر نے شدت پسند اور دہشت گرد مدارس میں پلے بڑھے ہیں کہہ کر ایم پی کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کردی ہے۔

  • Share this:
آسام کے بعد اب مدھیہ پردیش کے مدارس حکومت کے نشانے پر
آسام کے بعد مدھیہ پردیش کے مدارس حکومت کے نشانے پر

مدھیہ پردیش اسمبلی ضمنی انتخابات کے دن جتنے نزدیک آتے جا رہے ہیں ، سیاسی لیڈران کے بیانات عوامی مفادات اور ترقیاتی ایشو سے دور ہوتے جارہے ۔ پہلے سیاست دانوں کے ذریعہ اپنی حریف پارٹی کے لیڈروں کے لئے غیر مہذب لفظ کا استعمال کیا گیا ۔ اس کے بعد خواتین کے لئے غیر شائستہ الفاظ کا استعمال کرنے میں کانگریس اور  بی جے پی ایک دوسرے پر سبقت لے جاتی ہوئی دکھائی دیں ۔ اب ان سب سے الگ ہٹ کو مدارس کو شدت پسند اور دہشت گرد پیدا کرنے والے ادارے سے تعبیر کردیا گیا ہے۔


ایسا نہیں ہے کہ مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنے کو لیکر سیاسی پارٹی کے ذریعہ یہ پہلا بیان سامنے آیا ہے ۔ اس سے پہلے بھی مدارس کے تعلیمی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور یہاں تک کہا گیا کہ مدارس کے طلبہ مین اسٹریم سے دور ہوتے ہیں ۔ اب مدارس کے نظام تعلیم کو نشانہ بنانے کے ساتھ  ایم پی وزیر ثقافت و مذہبی امور اوشا ٹھاکر نے شدت پسند اور دہشت گرد مدارس میں پلے بڑھے ہیں کہہ کر ایم پی کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کردی ہے۔


کابینہ وزیر اوشا ٹھاکر کے پاس محکمہ سیاحت ، ثقافت اور مذہبی امور کا قلمدان ہے ۔ اوشا ٹھاکر نے اندور میں صحافیوں سے اپنی بات چیت میں کہا کہ اگر آپ اس ملک کے شہری ہیں تو آپ دیکھئے کہ ساری شدت پسند اور سارے دہشت گرد مدرسوں میں پلے اور بڑھے ہیں ۔ جموں و کشمیر کو دہشت گردوں کی فیکٹری بنا کر رکھ دیا تھا ۔ تو ایسے مدرسے جو سماج واد سے سماج کی اصل دھارا سے نہیں جوڑ سکتے ان کوہمیں ملک کے تعلیمی نظام سے جوڑ کرہمہ جہت ترقی کے لئے آگے لانا ہوگا ۔ ابھی آسام میں مدرسوں کو بند کرکے دکھا دیا ہے ۔ قومی مفاد کی راہ میں جو بھی روکاٹ بنے گا ، ایسی ساری چیزیں ملک کے مفاد میں بند ہونی چاہیئے ۔



وہیں مدھیہ پردیش کی مسلم تنظیموں نے مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ ہندوستان کا قیمتی سرمایہ مدرسوں میں تیار ہوتا ہے ۔ مدارس نے ملک کی آزادی میں بنیاد کا کردار ادا کیا ہے ۔ حکومت ہند کے ذریعہ بہت سی جانچ کی گئی ، لیکن اب تک کسی مدارس سے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس پر انگلی اٹھائی جا سکے ۔ مدارس حب الوطنی کا درس دیتے ہیں، ان کا دہشت گردی سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ جہاں تک گرانٹ کا تعلق ہے تو حکومت ہند مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے تحت مدرسوں کو گرانٹ دیتی ہے ۔ لیکن ایسے مدارس انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے مدارس مسلمانوں کے عوامی تعاون سے جاری ہیں اور یہ مدارس دینی اور عصری تعلیم دیکر ملک کی عوام کو تعلیم  یافتہ بنا رہی ہیں اور ملک کو ترقی کا راہ پر گامزن کر رہی ہیں ۔ ہم ان لوگوں سے اپیل کرتے ہیں جنہیں مدارس کو لیکر شبہات ہیں وہ ہمارے مدارس میں آئیں اور دیکھیں کہ مدارس کیا تعلیم دیتے ہیں ۔ ہمیں یقین ہے کہ جس دن یہ لوگ ہمارے مدارس کے نظام تعلیم کو آکر دیکھیں گے اس دن ان کا نظریہ بدل جائے گا ۔

مائنارٹیز یونائٹیڈ آرگنائزیشن کے سکریٹری عبد النفیس کہتے ہیں کہ بی جے پی کو مدرسہ اس لئے یاد آرہے ہیں  ، کیونکہ ایم پی اسمبلی انتخابات میں اس کے پیروں سے زمین کھسک رہی ہے ۔ عوام کو گمراہ کرنے کے لئے بی جے پی لیڈران کبھی خواتین کے لئے نا زیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ، تو کبھی مدرسوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ عوام بیدار ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ اس میں سچائی کتنی ہے ۔ مدارس نے ہمیشہ حب الوطنی کا درس دیا ہے ۔ مدراس نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں بڑی شہادت پیش کر کے ملک کو آزاد کروایا ہے ، اس کو دہشت گردی سے جوڑنا سراسر غلط ہے ۔ لال کرشن اڈوانی سے لے کر اب تک کتنی جانچ حکومتیں کرواچکی ہیں اور انہیں ہر بار مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 20, 2020 09:30 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading