ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بگھیل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائرکرنے کے لئے سونیا سے اجازت طلب

رائے پور۔ چھتيس گڑھ کے سابق وزیر اعلی اجیت جوگی نے انتاگڑھ اسمبلی حلقہ کے ضمنی الیکشن کے تعلق سے سامنے آنے والے آڈیو ٹیپ کے معاملے میں جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے ریاستی کانگریس صدر بھوپیش بگھیل پر بغیر ثبوت کے اپنی شبیہ خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ان کے خلاف فوجداری اور ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 03, 2016 10:50 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بگھیل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائرکرنے کے لئے سونیا سے اجازت طلب
رائے پور۔ چھتيس گڑھ کے سابق وزیر اعلی اجیت جوگی نے انتاگڑھ اسمبلی حلقہ کے ضمنی الیکشن کے تعلق سے سامنے آنے والے آڈیو ٹیپ کے معاملے میں جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے ریاستی کانگریس صدر بھوپیش بگھیل پر بغیر ثبوت کے اپنی شبیہ خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ان کے خلاف فوجداری اور ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔

رائے پور۔ چھتيس گڑھ کے سابق وزیر اعلی اجیت جوگی نے انتاگڑھ اسمبلی حلقہ کے ضمنی الیکشن کے تعلق سے سامنے آنے والے آڈیو ٹیپ کے معاملے میں جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے ریاستی کانگریس صدر بھوپیش بگھیل پر بغیر ثبوت کے اپنی شبیہ خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ان کے خلاف فوجداری اور ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔ مسٹر اجیت جوگی نے آج یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ انگریزی اخبار کی طرف سے جاری آڈیو ٹیپ کو بغیر تحقیقات کے ہی درست ٹھہرا کر ان کی عوامی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی هے۔ انهو ں نے کہا کہ جس آڈیو ٹیپ کو مسٹر بگھیل نے سچ تسلیم کرلیا ہے، اسے تو مذکورہ اخبار نے بھی درست بتانے کے بجائے اپنی رپورٹ میں 27 بار'مبینہ طورپر' ذکر كيا ہے۔ انهوں نے اخبار کو بھی مبینہ ٹیپ کے بجائے ٹیپ کے مستند ہونے کے بارے میں لکھنے کا چیلنج دیا۔


انہوں نے اس سلسلے میں کانگریس کے قومی ترجمان مسٹر سورجےوالا کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ بغیر تحقیقات کے ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے ۔انہوں نے انکوائری کی بات کی مگر مسٹر بگھیل نے ٹیپ کو سچ ہی نہیں بتایا بلکہ میڈیا سے یہ بھی کہا کہ جوگي بی جے پی اور رمن سنگھ کے مشکل کشا بن چکے ہیں۔


سینئر کانگریسی لیڈر نے کہا کہ متنازعہ آڈیو ٹیپ میں چھ لوگوں کی آوازیں ہیں، جن میں سے پانچ لوگوں نے اپنی آواز کی تردید کی ہے اور اس میں ٹکنالوجی کا استعمال کر چھیڑ چھاڑ کئے جانے کی بات کی ہے جبکہ صرف ایک شخص نے اپنی آواز ہونے کی تصدیق کی هے۔

انہوں نے کہا كہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کو انہوں نے دو خطوط لکھے ہیں جن میں سے ایک میں مسٹر بگھیل کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی اجازت طلب کی ہے تو دوسر ے خط میں اس معاملے میں ان کے خلاف سازش کا تفصیل سے ذکر هے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف ہونے والی سازش میں پارٹی کی ریاستی یونٹ کے ہی نہیں بلکہ دہلی کے بھی چند لیڈروں کے ملوث ہونے کا خدشہ ہے۔

First published: Jan 03, 2016 10:45 PM IST