உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انجمن فروغ اردو کے زیر اہتمام رانچی میں پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کے انتقال پر تعزیتی اجلاس کا انعقاد

    انجمن فروغ اردو کے زیر اہتمام رانچی میں پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کے انتقال پر تعزیتی اجلاس کا انعقاد

    انجمن فروغ اردو کے زیر اہتمام رانچی میں پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کے انتقال پر تعزیتی اجلاس کا انعقاد

    جے این کالج دھروا کے صدر شعبۂ اردو پروفیسر محمد رضوان علی نے کہا کہ اردو ادب میں شمس الرحمن فاروقی کی حیثیت جدیدیت کے بانیوں میں سے تھی اور اس تحریک سے وہ آخری سانس تک وابستہ رہے۔

    • Share this:
    رانچی : انجمن فروغ اردو جھارکھنڈ کے زیر اہتمام آج اردو زبان و ادب کے معروف محقق ، ناقد ، فکشن نگار اور شاعر پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کے سانحہ ارتحال پر مقامی انجمن اسلامیہ ہال مین روڈ میں ایک تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر شہر کے ادباء ، شعرا ، اساتذہ اور ریسرچ اسکالروں نے شرکت کی ۔ واضح ہو کہ گزشتہ 25 دسمبر 2020 کو فاروقی کا اچانک انتقال ہو گیا تھا ۔ مذکورہ اجلاس میں کئی لوگوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر جے این کالج دھروا کے صدر شعبۂ اردو پروفیسر محمد رضوان علی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب میں شمس الرحمن فاروقی کی حیثیت جدیدیت کے بانیوں میں سے تھی اور اس تحریک سے وہ آخری سانس تک وابستہ رہے۔ ان کی فکر ترقی پسند تحریک اور انجمن جمہوریت پسند مصنفین کے برعکس جدیدیت کو ایک نئے پیکر میں سامنے لایا۔

    انجمن جمہوریت پسند مصنفین کے سکریٹری ایم زیڈ خان نے کہا کہ فاروقی نے میر اور غالب کی غزلوں کی جو تشریح اور تفسیر پیش کی ہے ، وہ پورے ادب کے لیے ایک بہترین عطیہ ہے ۔ ڈاکٹر غالب نشتر اور ڈاکٹر تسلیم عارف نے شمس الرحمن فاروقی کی تمام تخلیقات کے مختصر خاکے اور اردو ادب میں ان کی خدمات سے لوگوں کو روبرو کرایا ۔ اس موقع پر ڈاکٹر مکمل حسین نے کہا کہ شمس الرحمن فاروقی نے اپنی مساعی جمیلہ سے عالمگیر شہرت حاصل کی ۔ چوں کہ ہر شخص کو ایک دن موت کا جام پینا ہے۔ فاروقی بھی اس سے مستثنیٰ کیسے رہ سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل اردو ان کی وفات سے یتیم ہو گئے ہیں۔ گویا کہ دنیائے اردو ادب کو جو تازہ زخم ان کے رحلت سے لگا وہ بہت جلد مندمل ہونے کو نہیں ۔

    اس موقع پر طلبہ لیڈر ایس علی ، ڈاکٹر اقبال ، ڈاکٹر عبدالمغنی، ڈاکٹر تسنیمہ پروین، عائشہ خان، ڈاکٹر شگفتہ ناز، رازدا بانو، عبد الاحد، دانش ایاز، اعظم احمد، وسیم اکرم، طبیب احسن تابش ،فردوس جہاں اور ارشد اکرم وغیرہ نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: