உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال کے نقشے سے ایک اور تاریخی عمارت کا وجود ہوا ختم

    بھوپال کو نوابوں کی نگری ،جھیلوں اور تالابوں کا شہر کہا جاتا ہے ۔ اس کے امتیازات میں جہاں قدرت کا حسن شامل ہے وہیں بھوپال کی تاریخی عمارتیں بھی اس کا قدیم ورثہ ہیں اس کے باؤجود حکومتیں اس کے تحفظ کو لیکر سنجیدہ نہیں ہیں۔

    بھوپال کو نوابوں کی نگری ،جھیلوں اور تالابوں کا شہر کہا جاتا ہے ۔ اس کے امتیازات میں جہاں قدرت کا حسن شامل ہے وہیں بھوپال کی تاریخی عمارتیں بھی اس کا قدیم ورثہ ہیں اس کے باؤجود حکومتیں اس کے تحفظ کو لیکر سنجیدہ نہیں ہیں۔

    بھوپال کو نوابوں کی نگری ،جھیلوں اور تالابوں کا شہر کہا جاتا ہے ۔ اس کے امتیازات میں جہاں قدرت کا حسن شامل ہے وہیں بھوپال کی تاریخی عمارتیں بھی اس کا قدیم ورثہ ہیں اس کے باؤجود حکومتیں اس کے تحفظ کو لیکر سنجیدہ نہیں ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    تاریخی عمارتیں کسی بھی شہر کی پہنچان ہوتی ہیں ۔مہذب قومیں اور حکومتیں تاریخوں عمارتوں اور وراثت کا نہ صرف بچانے کا کام کرتی ہیں بلکہ انہیں پھولوں کی طرح سنبھال کر رکھتی ہیں تاکہ آئیندہ نسلوں تک تاریخی ورثے کو منتقل کیا جا سکے۔ بھوپال کو نوابوں کی نگری ،جھیلوں اور تالابوں کا شہر کہا جاتا ہے ۔ اس کے امتیازات میں جہاں قدرت کا حسن شامل ہے وہیں بھوپال کی تاریخی عمارتیں بھی اس کا قدیم ورثہ ہیں اس کے باؤجود حکومتیں اس کے تحفظ کو لیکر سنجیدہ نہیں ہیں۔ ریاست  بھوپال پر سترہ سو اکیس سے انیس سو انچاس تک نو مرد اور چار بیگمات نے حکومت کی ہے۔ بھوپال کی ہمہ جہت ترقی اور تاریخی عمارتوں کی تعمیر کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو بیگمات بھوپال کی بات کی جاتی ہے۔ یوں تو دنیا میں بہت سی خواتین حکمراں ہوئی ہیں لیکن بھوپال کی امتیاز یہ ہے کہ یہاں پر تسلسل کے ساتھ چار بیگمات نے حکومت کی ہے اور ان کی حکومت کی مدت ایک سو دس سال ہوتی ہے۔ اتنے لمبے عرصے تک بھوپال کو چھوڑ کر دنیا کے کسی اور شہر پر خواتین کی حکمرانی نہیں رہی ہے ۔مگر انہیں بیگمات کی تعمیر کردہ ایک ایک عمارت حکومت کی عدم توجہی کے سبب گرتی جا رہی ہے اور کوئی اس کے تحفظ کو لیکر آگے آنے کو تیار نہیں ہے ۔
    بھوپال میں جب بھی بارش کا موسم آتا ہے کوئی نہ کوئی تاریخی عمارت صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے ۔ بھوپال موتی مسجد سے صدر منزل کے بیچ محلات شاہی کے نام سے بیگمات بھوپال نے گیارہ تاریخی عمارتوں کی تعمیر کی تھی مگر عدم توجہی کے سبب اب سبھی تاریخی عمارتوں کا وجود خطرے میں ہے۔پچھلی بارش میں تاج محل کا کچھ حصہ گرکر تباہ ہوگیا تھا اور اس بارش میں سماجی تنظیموں کے بار بار کہنے کے باؤجود انتظامیہ نے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور موتی محل کے ایک حصہ کا وجود گرکر ختم ہوگیا۔
    سماجی کارکن اختر کہتے ہیں کہ ریاست کے خاتمہ کے بعد بھوپال میں کوئی ایسی عمارت نہیں ہے جس کی تزین کاری کاکام کیا گیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ میں بیٹھے لوگوں کو ریاستی عہد کی تاریخی عمارتوں سے کوئی بغض ہے ورنہ کیا بات ہے کہ تاریخی اہمیت کی حامل اور فن تعمیر کا بہترین شاہکار سمجھی جانے والی عمارتیں ایک ایک کر گرتی جا رہی ہیں اور حکومت وانتظامیہ کے کانوں پر جو ں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔ تاریخی عمارتیں شہر کی پہنچان ہوتی ہیں حکومت کی چاہیئے کہ ان کی تزین کاری کے لئے قدم اٹھائے ۔ حکومت اب بھی اگر سنجیدہ ہوجائے تو شہر کی بہت سی تاریخی عمارتوں کو گرنے سے بچایا جا سکتا ہے ۔
    وہیں ڈاکٹر اے پی جے کلام ایجوکیشن  سینٹر کے ڈائریکٹر اور ممتاز سماجی کارکن جاوید بیگ کہتے ہیں کہ جہاں تک میرے علم میں ہے موتی محل کے اس عمارت کو ہیر ٹیج اسکیم میں شامل کیاگیا تھا اور اس کے لئے پانچ کروڑ روپیہ کا پروجیکٹ  منظور بھی کیا گیا تھا ۔ ہیرٹیج میں موتی محل ،صدر منزل اور اقبال میدان کے سامنے کی تاریخی عمارت کے حصہ کو شامل کیاگیا تھا ڈصدر منزل میں جس میں نگر نگم کا دفتر ہوا کرتا تھا اس کی تزین کاری تو دو سال سے جاری ہے لیکن موتی جس کے بہت سے کمرے خود نگر نگم کی تحویل میں ہیں اس کو جان بوجھ کر کیوں گرنے دیا گیا سمجھ سے باہر ہے ۔نگر نگم ،ہیرٹیج سیل ،اسمارٹ سٹی پروجیکٹ اور محکمہ آثار قدیمہ کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ تاریخی عمارتوں کو سنبھال کر رکھا جائے ان کی تزین کاری کی جائے ۔ اس سے حکومت کا بھی فائیدہ ہوگا جب تاریخی عمارتیں بہتر حالت میں ہونگی تو سیاح خودبخود اس جانب رجوع کرینگے اور اس سے محکمہ سیاحت کے ساتھ شہر کے نوجوانوں کو بھی روزگار کے مواقع فراہم ہونگے۔

    وہیں بھوپال میونسپل کارپوریشن کے میئر آلوک شرما کہتے ہیں کہ شہر کی تاریخی عمارتوں کو بچانے کا کام جاری ہے ۔ بی جے پی حکومت  اس کے لئے سنجیدہ ہے اور اس کے لئے خاکہ بھی تیار کیاگیا ہے ۔خود نگر نگم نے بھی اس کے لئے خاکہ تیار کیا ہے۔ تاریخی عمارتیں بہت سی ہیں ایک ایک کر کے کام کیا جا سکتا ہے ۔ صدر منزل کا کام جاری ہے ۔آگے دوسری عمارتوں کی بھی تزین کاری ہوگی ۔ آج جو لوگ شور مچارہے ہیں انہیں چاہیئے کہ کبھی کانگریس کے لوگوں سے بھی سوال پوچھیں کہ انہوں نے اتنے سال حکومت کی انہوں نے بھوپال کی تاریخی عمارتیوں کو بچانے کا کام کیوں نہیں کیا۔
    واضح رہے کہ بھوپال میں گوہر محل سے موتی محل اور صدر منزل تک کی عمارتوں کی تعمیر کا کام بھوپال کی پہلی خاتون نواب قدسیہ بیگم گوہر محل کے عہد میں شروع ہوا تھا۔فتح گڑھ میں صدر منزل کے سامنے واقع موتی محل کی تعمیر نواب قدسیہ بیگم کے زمانے میں ہوئی تھی ۔ اسی محل کے نزدیک ایک بڑا دروازہ جو شوکت محل کو موتی محل سے جوڑتا ہے ۔ محل کے پاس ہی صدر منزل ہے جونواب قدسیہ بیگم کا دربار حال ہوا کرتا تھا۔ یہاں پر نوابی عہد میں کئی سرکاری دفاتر ہوا کرتے تھے ۔ جب دیڑھ سو سالہ یہ قدیم عممارتیں شکستہ ہوئیں تو ان میں سے دفاتر کو شفٹ تو کیا گیا لیکن ان کی تزین کاری کی ذمہ داری انجام نہیں دی گئی ہے ۔ اگر حکومت اور انتظامیہ کا یہی منفی رویہ رہا تو بھوپال کی جو ایک سو دس تاریخی عمارتیں ہیں ان کا وجود بھی رفتہ رفتہ ختم ہو جائے گا ۔تاریخی ورثے کی حفاظت اوراس کی تزین کاری کے لئے یہاں کےعوام کے ساتھ حکومت اور انتظامیہ کو بھی اپنی بیداری کا ثبوت دینا ہوگا۔
    Published by:sana Naeem
    First published: